پاکستان میں خوردنی تیل کی سپلائی میں پائیدار پام آئل کی حصہ داری

سی پی او پی سی کے تحت منعقدہ ویبنارمیں ڈاکٹر یوسف بسیران اور دیگر کااظہار خیال

کراچی(کامرس ڈیسک)پاکستان میں خوردنی تیل کی سپلائی میں پائیدار پام آئل کی حصہ داری کے حوالے سے باہمی تبادلہ خیال کے لیے سی پی او پی سی کی جانب سے پاکستان میں پہلے ویبنارکا انعقاد کیا گیا،یہ ویبنار ’’دنیا کی بہتری کیلئے پائیدار پام آئل ‘‘ کے عنوان سے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی ویبینار سیریز کاحصہ ہے ۔ ویبنار میں ماہرین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے پائیدار پام آئل جیسی صحت مندانہ ذرائع خوراک وقت کی اہم ضرورت ہے ۔سی پی او پی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر یوسف بسیران نے ویبنار میں خصوصی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ویبنار کی ادارت کے فرائض میڈی ایٹرز کے ڈائریکٹر گورنمنٹ ریلیشنز آذر ایاز نے سر انجام دیے جبکہ پینل کے مہمانوں میں نیمیر (NIMIR)کے سی ای او ظفر محمود، انڈونیشین پام آئل ایسوسی ایشن کے ڈپٹی چیئرمین ٹوگر سٹنگانگ اور ملائیشین پام آئل کونسل کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ فیصل اقبال اور دیگر شامل تھے۔ڈاکٹر یوسف بسیران نے خطاب کرتے ہوئے پام آئل کی پیداوار،دنیا بھر میں پھیلی اس کی مارکیٹ اور مختلف اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ سی پی او پی سی کی جانب سے منعقدہ اس ویبینار سیریز کا مقصد صارفین کو پام آئل کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے ۔ نیمیر کے سی ای او ظفرمحمود کاکہنا تھا کہ پاکستان میں خوردنی تیل کی مارکیٹ لوکل پروڈیوسرزکے ہاتھ میں ہے اور اس کا زیادہ تر استعمال عام صارفین کرتے ہیں اور ان پر پریمیم کا بوجھ ڈالنا کسی طوربھی مناسب نہیں۔ ٹوگرسٹنگانگ اور فیصل اقبال نے کہا کہ پاکستان سے پائیدار پام آئل کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ اس موقع پر سی پی او پی سی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈوپٹو سیمامورا کا کہنا تھا کہ پائیدار پام آئل کی مخالفت میں پھیلائی جانیوالی افواہوں کے پیچھے درحقیقت غیر معیاری خورنی تیل بنانے والے لوگ شامل ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ صارفین کو پام آئل کی افادیت سے مناسب آگاہی اور رہنمائی فراہم کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں