نوشہرہ،گھریلو جھگڑے پررشتہ داروں نے حاملہ خاتون پر تشدد کرکے بچے کوقتل کردیا

ڈاکٹرز کی جانب خاتون اور بچے کی میڈیکل رپورٹ سمپل کرانے اور پوسٹ مارٹم نہ کرنے پر نوجوان سراپا احتجاج نوجوان سید وھاب نے وفاقی وزیر دفاع پرویز خان خٹک کی ھسپتال آمد کے موقع پربچہ گود میں لئے احتجاج کیا

نوشہرہ (کرائم ڈیسک) گھریلو جھگڑے پررشتہ داروں نے حاملہ خاتون پر تشدد کرکے بچے کوقتل کردیا، ڈاکٹرز نے میڈیکل رپورٹ سمپل کردی،ڈاکٹرز کی جانب خاتون اور بچے کی میڈیکل رپورٹ سمپل کرانے اور پوسٹ مارٹم نہ کرنے پر نوجوان سراپا احتجاج۔ڈسٹرکٹ ھسپتال نوشہرہ میں نظامپور کے رھائشی سید وھاب نے احتجاج کرتے میڈیا کو بتایا کہ ھمارے گھر میں ماموں عطاء اللہ دیگر رشتہ داروں جان سید اور دیگر کے ساتھ لڑائی ہوئی جس پر ہم تھانہ نظامپور آئے ھم تھانے میں رپورٹ کیلئے بیٹھے تھے کہ اس دوران عطاء اللہ جو کہ پولیس اہلکار ہے باوردی میرے گھر گیا اور گھر میں حاملہ خاتون پر تشدد شروع کی جس کے نتیجے میں خاتون کی حالت بگڑ گئی اور بچہ پیٹ میں دم توڑ گیاھم ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ھسپتال نوشہرہ آئے تو جان سید جوکہ محکمہ صحت میں ملازم ہے اور پشاور سیکرٹریٹ میں کام کرتاہے نے ھسپتال ڈاکٹرز سے رپورٹ بدل دی، میڈیکل رپورٹ سمپل جاری کیاگیا کہ مقتول بچے پر تشدد کے نشانات موجود ہیں دوسری طرف نومولود مقتول کی پوسٹ مارٹم بھی نہیں کی۔

نوجوان سید وھاب نے وفاقی وزیر دفاع پرویزخان خٹک،وزیر اعلی خیبرپختونخوا سے اپیل کی کہ نہ صرف یہ کہ میری داد رسی کی جائے بلکہ پوسٹ مارٹم میں حیلوں بہانوں سے کام لینے اور میڈیکل رپورٹ غلط جاری کرنے پر ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی کی جائے۔نوجوان سید وھاب نے وفاقی وزیر دفاع پرویز خان خٹک کی ھسپتال آمد کے موقع بچہ گود میں لئے احتجاج کیا۔احتجاج کرنے پر تھانہ نوشہرہ کلاں پولیس نے نوجوان کو تھانے لیجاکر اسکی باقاعدہ رپورٹ درج کرانے کی یقین دھانی کرادی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں