معمولی تکرار پر نوجوان قتل، شہریوں نے ملزم کو گھر سمیت زندہ جلا دیا

پولیس نے نوجوان کی ہلاکت پر کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لے لیا

چارسدہ (کرائم ڈیسک) : چارسدہ میں معمولی تکرار پر فائرنگ سے نوجوان کو قتل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ چارسدہ کے علاقہ پلہ ڈھیری میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے معمولی تکرار پر نوجوان کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ واقعہ کے بعد مقتول کے اہل خانہ نے شدید احتجاج کیا اور ملزم کے گھر کو آگ لگا دی جس سے ملزم ہلاک ہوگیا اور اس کی والدہ بھی جھلس گئیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے اس اگفسوسناک واقعہ کی سختی سے مذمت کی اور ہدایات جاری کیں کہ مذکورہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چارسدہ سٹی پولیس تھانے کے اہلکار پامیر نے انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ زندہ جلائے جانے والے معذور شخص کا ایک پڑوسی نوجوان کے ساتھ کبوتر پر تنازع چل رہا تھا اور اسی معذور شخص نے اسی تنازعے میں (جمعے) کو نوجوان کو قتل کیا تھا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ قتل کے بعد مقتول نوجوان کے اہل خانہ لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کر رہے تھے کہ اتنے میں مشتعل ہجوم نے معذور شخص کے گھر کا محاصرہ کیا اور اس کو آگ لگا دی۔ پامیر نے بتایا کہ پولیس نے گھر کے اندر سے معذور شخص کی بہن کو ریسکیو کیا لیکن معذور شخص اور ان کی والدہ گھر میں رہ گئے۔ جن کو مشتعل ہجوم نے گھر کے اندر جلا دیا اور بعد میں گھر کو بھی آگ لگا دی۔
جس کے نتیجے میں معذور شخص ہلاک اور ان کی والدہ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ واقعہ کے دوران مشتعل ہجوم کی طرف سے ایک پولیس ایس ایچ او اور تین پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کیا گیا جن کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔ دوسری جانب پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس کیس میں 13 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں