امریکا، کورونا وائرس کے دوران تمباکو نوشی اور سگریٹ کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران تمباکو نوشی اور سگریٹ کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکن کینسر سوسائٹی ہسپتال کے طبی ماہر سیمویل اسارہ نے میڈیا کو بتایا کہ عالمی وبا کے دوران تمباکو نوشی اور سگریٹ کی فروخت میں اضافہ ہوا ۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق ملک میں اس وقت 3کروڑ 41 لاکھ کے قریب بالغ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ ایک کروڑ 60 لاکھ سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے دباؤ ،بے چینی اور اضطراب کی کیفیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں گزشتہ سال سگریٹ کے عادی بہت ہی کم افراد کی جانب سے تمباکو نوشی ترک کرنے والی ہاٹ لائنز پر کالز کی گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال محکمۂ صحت کی جانب سے تمباکو نوشی ترک کرنے کے حوالے سے مہم اور اشتہارات میں کمی دیکھنے میں آئی ،زیادہ تر مہم اور اشتہارات عالمی وبا سے متعلق آگاہی، سماجی رابطوں کے اصولوں پر عمل اور ماسک لگانے کی ہدایت پر مشتمل رہیں۔رپورٹ کے مطابق ہزار بالغ افراد پر مشتمل ایک سروے میں دیکھا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران تقریباً ایک تہائی افراد نے سگریٹ نوشی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں