امریکا کا سوڈان میں فوجی بغاوت پر تشویش کا اظہار‘امدادروکنے کی دھمکی

فوجی بغاوت آئین میں مداخلت ہے جس سے امریکی امداد خطرے میں پڑ جائے گی.اعلی امریکی سفارتکار

خرطوم(انٹرنیشنل ڈیسک ) سوڈان میں فوجی بغاوت پر امریکا نے اظہار تشویش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے سوڈان کی امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے افریقہ کیلئے امریکی خصوصی نمائندے جیفری فیلٹ مین کا کہنا ہے کہ سوڈان میں فوجی بغاوت کی اطلاعات پر امریکا کو تشویش ہے.

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی سفارتکار نے کہا کہ فوجی بغاوت سوڈانی آئین میں مداخلت ہوگی فوجی بغاوت سے سوڈان کیلئے امریکی امداد خطرے میں پڑ جائے گی واضح رہے کہ سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد امریکا نوازوزیراعظم عبد اللہ حمدوک کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا خرطوم میں شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی سوڈانی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے سوڈانی وزیراعظم کو فوجی بغاوت کی حمایت سے انکار پر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوڈانی فوج کی جانب سے گھر میں نظر بند وزیراعظم پر فوجی بغاوت کی حمایت کا بیان دینے پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے.

اطلاعات کے مطابق فوج نے پیر کی صبح وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک سمیت چار وزرا کو بھی حراست میں لے لیافوج نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے سوڈان کی وزارتِ اطلاعات کے فیس بک صفحے پر ایک پیغام میں ملک کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن مظاہرے کریں اور ”انقلاب کا تحفظ“ کریں. وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی افواج نے انہیں ان کے گھر میں قید کر دیا ہے اور ان پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے حق میں بیان دیں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سروسز معطل کر دی گئی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں مشتعل لوگ سڑکوں پر ٹائر جلا رہے ہیں.
برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ عام لوگوں کی آمدورفت کو محدود رکھنے کے لیے شہر میں فوج اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اس کے علاوہ خرطوم ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے. سوڈان میں فوجی اور سیاسی راہنماﺅں کے درمیان طویل عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی سوڈانی فوج 2019 میں صدر عمرالبشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سیاسی راہنماﺅں کے ساتھ عبوری حکومت میں شریک اقتدار ہے فوج نے کئی گروپس کے سیاسی اتحاد فورسز فار فریڈم اینڈ چینج (ایف ایف سی) کے ساتھ اقتدار میں شریک ہونے کے لیے ایک ڈیل کی جس کے بعد ایک آزاد کونسل کا قیام عمل میں لیا گیا.
اس معاہدے کے تحت ملک میں ایک سال بعد انتخابات کو یقنی بنایا جانا تھا اور اقتدار سیاسی جماعتوں کو منتقل ہونا تھا مگر اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکا کیونکہ ایک طرف حریف سیاسی گروہ تھے اور دوسری طرف خود فوج کے اندر تقسیم موجود تھی ستمبر میں سابق صدر کے پیروکاروں کی طرف سے بغاوت کی کوشش ناکام بنانے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی اس مہینے سوڈان میں جمہوریت کی بحالی کے مخالفین خرطوم کی سڑکوں پر نکل آئے اور فوج سے ملک کا اقتدار سنبھالنے کا مطالبہ کر دیا.
سوڈان میں فوج کا کردار ہمیشہ انتہائی اہم رہا ہے1956 میں سوڈان کی آزادی کے دو سال بعد ہی 1958 میں چیف آف سٹاف میجر جنرل ابراہیم آبود نے ایک خونی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا 1964 کی ایک مقبول بغاوت نے فوج کو اقتدار چھوڑنے پر مجور کر دیا تاہم 1969 میں کرنل جعفر النیمیری کی سربراہی میں ایک اور بغاوت کے بعد اقتدار واپس فوج کے پاس آگیا جعفر النیمیری کو خود کئی بغاوتوں کا سامنا رہا.
1985 میں لیفٹیننٹ جنرل عبد الرحمان سوار الدحاب کی سربراہی میں فوجی سربراہان کے ایک گروہ نے النیمیری کو اقتدار سے نکال باہر کیا ایک سال بعد الدحاب نے تمام اختیارات منتخب حکومت کے وزیراعظم الصادق الماہدی کے حوالے کر دیے. تین سال بعد جون 1989 میں بریگیڈیئر عمر البشیر کی سربراہی میں اسلامی فوجی سربراہان نے الماہدی کے غیر مستحکم اقتدار کا خاتمہ کر دیا عمر البشیر 30سال اقتدار میںرہے تاہم اس طویل عرصے کے دوران ان کی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں