افغانستان میں فوجی آپریشن، امریکا اور پاکستان معاہدے کے قریب آ گئے، سی این این کا دعویٰ

معاہدے سے امریکا افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرے گا،پاکستان نے فضائی حدود کے استعمال کے بدلے انسدادِ دہشت گردی کے لیے امداد کی فراہمی اور بھارت سے تعلقات میں بہتری کے لیے مدد کی خواہش ظاہر کی ۔امریکا کے نشریاتی ادارے کا دعویٰ (سابقہ خبر)

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان میں آپریشن کے حوالے سے امریکا اور پاکستان معاہدے کے قریب آ گئے ہیں۔امریکا کے نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر امریکا اور پاکستان معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ نے امریکی ارکانِ کانگریس کو پاکستان سے کیے گئے سمجھوتے سے آگاہ کر دیا۔
امریکا نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فضائی حدود کے استعمال کے بدلے انسدادِ دہشت گردی کے لیے امداد کی فراہمی اور بھارت سے تعلقات میں بہتری کے لیے مدد کی خواہش ظاہر کی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ امریکی ارکانِ کانگریس کو پاکستان سے ہونے والے سمجھوتے سے جمعے کی صبح آگاہ کیا گیا۔

امریکا کے نشریاتی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکا اور پاکستان کے مذاکرات جاری ہیں۔

امریکا میڈیا کے مطابق معاہدے سے امریکا افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرے گا۔ابھی تک معاہدے کی شرائط طے نہیں پائیں۔ امریکی نشریاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمجھوتے کو حتمی شکل نہیں دی گئی اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ معاہدے کا جلد امکان ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اتحادی افواج نے 31 اگست تک افغانستان سے حتمی انخلا کے لیے پاکستان سے مدد کی درخواست کی تھی جسے پاکستان نے قبول کیا تھا۔یہ درخواست امریکی فوج اور نیٹو نے کی، پاکستان نے امریکی درخواست منظور کی۔پاکستان نے افغانستان نے انخلاء میں امریکا کی جس طرح مدد کی اس کی تعریف عالمی سطح پر کی گئی۔بعدازاں افغانستان میں نئی عبوری حکومت نے کہا تھا کہ افغان حکومت اورطالبان کسی کواپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلا ف استعمال نہ کرنے دیں۔

××××××××××××××××××××88888888888×××××××××××××8888888888××××××××××××××××

(خبر کی تصحیح)
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکا کے مابین معاہدے کی خبر کی تردید کر دی
پاکستان اور امریکا کے مابین فضائی حدود کے استعمال کے کسی معاہدے پر بات چیت نہیں ہو رہی۔ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (تازہ ترین) ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکا کے مابین معاہدے کی خبر کی تردید کر دی۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے افغانستان میں انٹیلی جنس آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی خبروں کی تردید کی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے مابین فضائی حدود کے استعمال سے متعلق کسی معاہدے پر بات چیت نہیں ہو رہی۔
پاکستان اور امریکا کا علاقائی ،سلامتی اور انسداد دہشتگردی پر دیرینہ تعاون ہے۔پاکستان اور امریکا کے مابین باقاعدہ مشاورت جاری ہے۔واضح رہے کہ امریکا کے نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیاتھا کہ افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر امریکا اور پاکستان معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ نے امریکی ارکانِ کانگریس کو پاکستان سے کیے گئے سمجھوتے سے آگاہ کر دیا۔

امریکا نشریاتی ادارے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے فضائی حدود کے استعمال کے بدلے انسدادِ دہشت گردی کے لیے امداد کی فراہمی اور بھارت سے تعلقات میں بہتری کے لیے مدد کی خواہش ظاہر کی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ امریکی ارکانِ کانگریس کو پاکستان سے ہونے والے سمجھوتے سے جمعے کی صبح آگاہ کیا گیا۔ امریکا کے نشریاتی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکا اور پاکستان کے مذاکرات جاری ہیں۔
امریکا میڈیا کے مطابق معاہدے سے امریکا افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرے گا۔ابھی تک معاہدے کی شرائط طے نہیں پائیں۔ امریکی نشریاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمجھوتے کو حتمی شکل نہیں دی گئی اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ معاہدے کا جلد امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں