بھارت: پولیس کا عید میلاد النبی ﷺکے جلوس پر لاٹھی چارج، گرفتاریاں

بی جے پی کے انتہا پسندوں کے مسلم خواتین کو دھکے ، انتہاپسند خاتون کا مسلمان مسافر پر بہیمانہ تشدد ، تھپڑ برسائے، داڑھی اور بال نوچے پھر پیر پکڑوا کر معافی منگوائی بنگلاد یش میں ہندوؤں پر تشدد بند نہ ہوا تو بھارت کو ڈھاکہ پر حملہ کردینا چاہئے، بی جے پی رہنما کی دھمکی

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس پر لاٹھی چارج کیا، ریاست اتر پردیش میں بارہ ربیع الاول کے جھنڈوں کو اتروا لیا گیا، بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے سینئر رکن نے بنگلا دیش پر حملہ کرنے کا مطالبہ پیش کردیا۔12 ربیع الاول کے روز بھی بھارتی مسلمانوں کو سکھ کا سانس نصیب نہ ہوا،مودی کی پولیس اور ہندوتوا کے غنڈوں نے ہراساں کیا، مدھیہ پردیش میں انتہا پسند ہندوؤں نے عید میلاد النبیﷺ کے جلوس کو روایتی راستے سے گزرنے سے روک دیا، ریاستی پولیس نے شدت پسندوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر لاٹھی چارج کیا۔
متعدد شرکا کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔اتر پردیش کے شراوستی ضلع میں پولیس نے عید میلا دالبنی ﷺ کا پرچم یہ کہتے ہوئے اتار دیا کہ یہ پاکستان کا پرچم ہے، لکھنؤ میں رات گئے بی جے پی کے انتہا پسندوں نے میلادالنبی ﷺکے پرچم اتار دیئے اور مسلم خواتین کو دھکے دیئے، مسلمان بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

ٹرین میں انتہاپسند خاتون نے مسلمان مسافر پر بہیمانہ تشدد کیا، تھپڑ برسائے، داڑھی اور بال نوچے پھر پیر پکڑوا کر معافی منگوائی۔ بی جے پی سینئر رہنما سبرامنین سوامی بھی اپنی جماعت کی دہشت گردانہ زبان بولتے رہے، ٹویٹ کیا کہ اگر بنگلاد یش میں ہندوؤں پر تشدد بند نہ ہوا تو ڈھاکہ کو سبق سکھانے کے لئے بھارت کو حملہ کردینا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں