کراچی پر مسلط پیپلز پارٹی کا غیر منتخب شدہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو سندھ حکومت کے حوالے کررہا ہے، مصطفی کمال

یہ نہ صرف قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے بلکہ کراچی دشمنی اور ملک دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے، غیر منتخب شدہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کے وسائل اور اداروں کو کسی صورت سندھ حکومت کے حوالے نہیں کر سکتا،چیئر مین پاک سرزمین پارٹی

کراچی (بیورو رپورٹ) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی پر مسلط پیپلز پارٹی کا غیر منتخب شدہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو پیپلزپارٹی کی جاگیر سمجھ کر کرپٹ، نااہل اور تعصب زدہ سندھ حکومت کے حوالے کررہا ہے جو ناصرف قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے بلکہ کراچی دشمنی اور ملک دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
غیر منتخب شدہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کے وسائل اور اداروں کو کسی صورت سندھ حکومت کے حوالے نہیں کر سکتا۔ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز اور عباسی شہید ہسپتال کو تحویل میں لینے سے پہلے پیپلز پارٹی کی نااہل حکومت بتائے کہ اس نے زیر انتظام چلنے والے سول اسپتال اور جناح اسپتال سمیت کونسا اسپتال ماڈل اسپتال بنا دیا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سندھ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے تک کی ویکسین نہیں۔

سندھ کی عوام اپنے مریضوں کو ٹھیلوں پر ہسپتال پہنچاتے ہیں لیکن وہاں پہنچنے پر بھی طبی امداد نا ملنے پر مریض موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ سندھ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں میں صرف موت بٹ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی آئی ایچ ڈی اور عباسی اسپتال پر جعلی ڈومیسائل پر غیر قانونی بھرتیوں کے ذریعے پیپلز پارٹی کے کارکنان کو نوازنے کیلئے قبضہ کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کا وطیرہ ہے کہ پہلے فنڈز روک کر اداروں کو تباہ و برباد کرتی ہے، پھر اداروں پر قبضہ کرتی ہے اور میرٹ کا قتل کرکہ پیپلز پارٹی کے کارکنان کو بھرتی ہے۔ پاک سر زمین پارٹی پیپلزپارٹی کی نااہل اور تعصب زدہ حکومت کو تنبیہ کرتی ہے کہ پاکستان کے معاشی انجن کراچی میں سول نافرمانی کی تحریک کو ہوا دینے سے باز آجائے، بصورت دیگر ہمیں پیپلز پارٹی کا قبلہ ٹھیک کرنا آتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ایس پی میڈیکل ایڈ کمیٹی کے عہدے داران سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مصطفی کمال نے مزید کہا کہ ہمارے دور نظامت میں کے آئی ایچ ڈی اور عباسی اسپتال عوام کی خدمت کے بہترین نمونے تھے جنہیں پیپلز پارٹی کی متعصبانہ حکومت نے کراچی دشمنی میں تباہ کر دیا ہے۔ سید مصطفی کمال نے کہا کہ صحت اور تعلیم خالصتا مقامی حکومتوں کا کام ہے، ایک صوبائی وزیر اور اسکا سیکریٹری صوبے بھر کے اسکولوں اور اسپتالوں کو ٹھیک نہیں کر سکتا۔
دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اور مہذب اقوام میں صحت اور تعلیم کے مراکز مقامی حکومتوں کے زیر انتظام ہوتے ہیں۔ سندھ حکومت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے صرف ایک ایجنڈے پر گامزن ہے کہ ملک کو 70 فیصد اور سندھ کو 90 فیصد ریونیو دینے والے شہر کراچی کے وسائل کو مزید کیسے لوٹا اور قبضے میں لیا جائے۔ قوم جانتی ہے کہ اگر ملک میں شفاف انتخابات ہوگئے تو پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت نہیں بنا سکتی، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی ہر انتخابات کو اپنا آخری انتخاب سمجھ کر قیامت خیز لوٹ مار کرتی ہے۔
مصطفی کمال نے مطالبہ کیا کہ صحت اور تعلیم کے اداروں کو مقامی حکومتوں کے زیر انتظام دیا جائے اور صوبائی سطح پر صرف قانون سازی یا پالیسیاں مرتب کی جائیں۔ اگر کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز اور عباسی شہید اسپتال کو سندھ حکومت کی تحویل میں دینے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا اور عوام کو انکا آئینی و قانونی حق نہیں دیا گیا تو حالات کی خرابی کی زمہ دار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں