امریکہ نے جیل میں قید ملزم ظاہر جعفر کو پارسل بھیجے تھے

پارسل میں وہ چیزیں تھیں جو ملزم نے ڈیمانڈ کی تھیں، امریکی سفارتخانے نے ایک پارسل ملزم کے والد کو بھی بھیجا۔ صحافی زاہد گشگوری کے انکشافات

اسلام آباد (کرائم ڈیسک) : نور مقدم قتل کیس سے متعلق بات کرتے ہوئے انوسٹی گیٹو جرنلسٹ زاہد گشگوری نے مزید انکشاف کردئے۔ تفصیلات کے مطابق اُردو پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد گشگوری نے کہا کہ چونکہ ملزم ظاہر جعفر ایک امریکی شہری بھی ہے ، تو امریکہ کو ملزم تک قونصلر رسائی دی گئی تھی۔ امریکی سفارتخانے اور حکام نے ملزم ظاہر جعفر سے ملاقات کی اور رابطے میں بھی رہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی سفارتخانے کی جانب سے اڈیالہ جیل میں قید ملزم ظاہر جعفر کو دو پارسلز بھجوائے گئے۔ ان پارسلز میں وہ چیزیں تھیں جن کا ظاہر جعفر سے ان سے مطالبہ کیا تھا ، جب ظاہر جعفر کی امریکی حکام سے بات ہوئی تب انہیں اپنے کچھ لوازمات بھی بتائے تھے۔

اسی کے جواب میں انہوں نے ظاہر جعفر کو ایک پارسل بھیجا ۔ لیکن میری معلومات کے مطابق یہ پارسل واپس بھجوا دیا گیا تھا اور متعلقہ حکام کو ہدایات دی گئی تھیں کہ آپ اس حوالے سے پاکستان کی وزارت داخلہ سے بات کریں، اور یہ پارسلز وزارت داخلہ کی اجازت لے کر بھجوائی جائیں ، اسی صورت میں ہی پارسلز ملزم کو دئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتخانے نے ذاکر جعفر (جو مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ہیں) کو بھی ایک پارسل بھجوایا تھا جس کے بعد یہ سوال اُٹھا کہ کیا ذاکر جعفر بھی امریکی شہری ہیں، اگر نہیں تو امریکی سفارتخانے نے اُن کو پارسل کیوں بھیجا ؟ زاہد گشگوری کے مطابق ان پارسلز میں کچھ دستاویزات ، کتابیں اور استعمال کی بنیادی چیزیں تھیں۔ یہ پارسلز کافی بڑے تھے جنہیں جیل حکام نے کھولا ضرور تھا لیکن اسے واپس بھجوا دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتخانے کی جانب سے بھیجے گئے پارسلز کیس میں اہم پیش رفت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق جیل میں ملزم ظاہر جعفر کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا جس میں اسے ذہنی طور پر مکمل فٹ قرار دیا گیا، تاحال ملزم ظاہر جعفر کی والدین سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر جعفر کا ٹرائل ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میری نور مقدم کی والدہ سے ملاقات ہوئی وہ بہت تکلیف میں ہیں، اور چاہتی ہیں کہ جلد اس کیس کا فیصلہ ہو اور انصاف ہو۔ نور مقدم نے اپنی والدہ سے آخری بات 20 جولائی کو کی تھی، تین ماہ گزرنے کے باوجود بھی نور مقدم کی والدہ اس حالت میں نہیں ہیں کہ وہ میڈیا پر آ کر بات کریں۔ شوکت مقدم نے واضح کہہ رکھا ہے کہ ہم فوری انصاف چاہتے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ قاتلوں کو پھانسی ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے مرکزی ملزم نے تاحال وکیل بھی نہیں کیا، جس کی کئی وجوہات ہیں، اس کا ایک مقصد کیس کو تاخیر کا شکار کرنا بھی ہے۔ زاہد گشگوری نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں