مدرسے میں طالبہ زیادتی کیس کا ڈراپ سین ہو گیا

فرانزک رپورٹ کے مطابق مدعیہ طالبہ سے کوئی زیادتی نہیں ہوئی،مرکزی ملزم مفتی شاہ نواز کو پولی گرافی فرانزک لیبارٹری ٹیسٹ میں بے گناہ قرار دیا گیا

راولپنڈی (کرائم ڈیسک) مدرسے میں طالبہ زیادتی کیس کا ڈراپ سین ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق مدرسہ میں طالبہ زیادتی کیس میں انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔زیادتی کیس کے مرکزی ملزم مفتی شاہ نواز کو پولی گرافی فرانزک لیبارٹری ٹیسٹ میں بےگناہ قرار دے دیا گیا۔جب کہ شریک ملزمہ خاتون ٹیچر عشرت حنیف بھی پولی گرافی ٹیسٹ میں بےگناہ قرار پائی گئی۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق مدعیہ طالبہ سے کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔تفتیشی ٹیم نے دونوں ملزمان کی بے گناہی رپورٹس عدالت پیش کر دیں۔جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے عدالت میں بیان دیا کہ ملزم پرنسپل مفتی شاہ نواز بےگناہ ہے۔ملزم کے وکیل نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ ملزمان بےگناہ قرار پا چکے ہیں التوا کا کوئی جواز نہیں۔

ملزم مفتی شاہ نواز کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا جائے۔

ملزم مفتی شاہ نواز کی درخواست ضمانت پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ایڈیشنل سیشن جج نے فریقین وکلاء کو دلائل پیش کرنے کے لیے حاضر ہونے کا حکم دیتے ہوئے حتمی دلائل کے لیے سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ پولیس نے مدرسہ جامعہ طوبی ضیا البنات کی 16 سالہ طالبہ سے زیادتی سے متعلق کیس میں مہتمم اور خاتون استاد سے تفتیش مکمل کی اور دونوں کے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیے گئے۔
ملزم مفتی شاہ نواز نے کہا تھا کہ پولی گرافی ٹیسٹ سے وہ پرامید ہیں کوئی جرم نہیں کیا، اپنے اداروں اور عدالتوں دونوں پر اعتماد ہے امید ہے انصاف ملے گا۔تھانہ پیرودھائی پولیس نے طالبہ مسکان نثار اور اس کی والدہ کی درخواست پر پرنسپل مفتی شاہ نواز کے خلاف جبری زیادتی اور شور مچانے پر قتل کرنے کی دھمکیوں کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا، تفتیشی ٹیم نے گائناکالوجسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں مرکزی ملزم اور طالبہ کا ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کرایا صرف پولی صرف پولی گرافی ٹیسٹ پر ہی اکتفا کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں