5

آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوتی ہے اتنی ریٹنگ آتی ہے، انور مقصود

میں نے کوئی کتاب لکھی، نہ میرا کوئی ٹوئٹر اکائونٹ ہے’ففٹی ففٹی‘ کی تمام ٹیم کو ایوارڈز دیئے گئے مگر مجھے نہیں دیا گیا،آنگن ٹیڑھا کو ایک جملے کے آن ایئر ہونے پر جلد بند کرنا پڑا، انٹرویو

کراچی (شوبز ڈیسک) لیجنڈری ڈراما ساز، مزاح نگار اور مصنف انور مقصود نے کہا ہے کہ حالیہ دور میں کئی ایسے ڈرامے ہیں، جنہیں دیکھنا تک پسند نہیں کرتا، مذکورہ ڈراموں پر اعتراض ہے مگر کیا کروں آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوگی، اس کی اتنی ہی زیادہ ریٹنگ آتی ہے۔ایک انٹرویو میں انور مقصود نے نہ صرف حالیہ دور کے ڈراموں پر بات کی بلکہ انہوں نے ماضی کے کئی رازوں کو بھی فاش کیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنے کئی مقبول ڈرامے اچانک کیوں بند کیی ۔
انور مقصود نے بتایا کہ بہت سارے ڈرامے لکھنے کے باوجود ا?ج تک انہوں نے کوئی کتاب نہیں لکھی اور نہ ہی ان کا کتاب لکھنے کا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’قرآن مجید‘ دیوان غالب، کلیات میر اور علامہ اقبال کی کتب موجود ہیں اور ان ہی کتابوں کی وجہ سے انہیں کبھی کتاب لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مجھے کئی لوگوں نے تجاویز دی ہیں کہ میں اپنے کچھ مشہور ڈراموں کو ایک ساتھ جمع کرکے ان کی کتاب لا سکتا ہوں اور ممکن ہے کہ کچھ عرصے بعد میں ایسا کروںمگر نئی کتاب نہیں لکھوں گا ۔

انہوں نے کہا کہ میں کوئی ٹوئٹر اکائونٹ نہیں اور ان میرے نام سے متعدد اکائونٹس چلائے جا رہے ہیں، جن میں سے بعض اکائونٹس کی توسط سے وزیر اعظم عمران خان سے بھی رابطہ کیا گیا۔انور مقصود نے بتایا کہ میں نے چند لوگوں کو ڈراما سازی سکھانے کا کام کیا مگر جلد انکشاف ہوا کہ جنہیں سکھا رہاہوںوہ تو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انور مقصود نے بتایا کہ میں اپنے بیٹے گلوکار بلال مقصود کیلئے گیت لکھتا ہوں اور کچھ گانے بالی ووڈ فلموں میں بھی شامل ہیں جب کہ ایک آدھ فلم بھی لکھی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اداکار معمر رانا اور جیا علی کی ایک فلم میں کہانی کار میں میرا نام آتا ہے، تاہم درحقیقت اس کی کہانی انہوں نے نہیں بلکہ سید نور نے لکھی ہے۔حالیہ دور کے ڈراموں پر بات کرتے ہوئے انور مقصود نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کل کے بہت سارے ڈرامے ایسے ہیں جنہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا جھے ان پر کافی اعتراض ہے۔
انور مقصود نے کسی بھی ڈرامے یا لکھاری کا نام لیے بغیر یہ اعتراف بھی کیا کہ انہیں جن ڈراموں پر اعتراض ہے، وہ مشہور بھی ہوتے ہیں اور انہیں دیکھا بھی جاتا ہے جب کہ ان کے لکھاری بھی کافی پسند کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ‘ریٹنگ‘ کے آنے سے کافی چیزیں تبدیل ہوئی ہیں، آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوگی، اتنی اس کی زیادہ ’ریٹنگ‘ آئے گی، جتنا فضول جملہ ہوگا، اتنا اسے پسند کیا جائے گا اور جتنی کوئی ٹی وی میزبان اپنے مہمان کے ساتھ بدتمیزی کرے گا، اس پروگرام کی اتنی زیادہ ریٹنگ آئیگی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ انہوں نے اپنے مقبول ڈرامے ’ستارہ اور مہرالنسا‘ کے ایک مرد کردار کے لیے بہت سارے اداکاروں سے رابطے کیے مگر ہر کسی نے مختصر کردار کی وجہ سے کام سے انکار کیا، جس کے بعد وہ کردار خود ادا کیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جنرل ضیاء الحق نے ان کے مقبول کامیڈی شو ’ففٹی ففٹی‘ کی تمام ٹیم کو ایوارڈز دیئے مگر انہیں نہیں دیا۔
انور مقصود کے مطابق انہوں نے خود کو ایوارڈ نہ ملنے پر اس وقت کے پاکستان ٹیلی وڑن (پی ٹی وی) کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) جو اس وقت جنرل ضیاء کے انفارمیشن سیکریٹری بھی تھے، ان سے استفسار کیا کہ انہیں ایوارڈ کیوں نہیں دیا گیا ۔ڈراما نگار نے بتایا کہ ایم ڈی نے انہیں بتایا کہ کامیڈی شو میں تو لکھاری کا کوئی کام ہی نہیں ہوتا، ساری محنت اور کام اداکاروں کا ہوتا ہے، جس وجہ سے انہیں ایوارڈ نہیں دیا گیا۔
انور مقصود کے مطابق انہوں نے ایم ڈی سے معذرت کی اور کہا کہ وہ نہ جانے کیوں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ کامیڈی شو میں لکھاری کا کوئی کام نہیں ہوتا‘۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ واقعے کے بعد ہی میں نے ’ففٹی ففٹی‘ کو بند کیا تھا۔اسی طرح انہوں نے اپنے مقبول ڈرامے ’آنگن ٹیڑھا‘ کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ بتایا کہ مذکورہ ڈرامے کا ایک جملہ آن ایئر ہونے پر ہنگامہ ہوگیا تھا۔
انور مقصود کے مطابق ڈرامے میں چوہدری نامی ایک کردار دوسرے کردار اکبر کو بتاتا ہے کہ پاکستان میں جس کو انگریزی آتی ہے، وہ کبھی بھوکا نہیں مرے گا، اسے کہیں نہ کہیں نوکری مل جائیگی‘۔انہوں نے بتایا کہ ڈرامے کا کردار اکبر دوسرے کردار چوہدری کو بتایا ہے کہ اسے انگریزی آتی ہے، جس پر چوہدری انہیں بولتا ہے کہ اچھا ’کیا میں جا رہا ہوں‘ کی انگریزی بتائو جس پر اکبر بولتا ہے کہ ’آر می گوئنگ‘۔
ڈراما نگارکے مطابق اکبر کی انگریزی پر چوہدری حیران رہ جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ اس سے زیادہ انگریزی دنیا میں کوئی نہیں بول سکتا، اس ملک میں رہتے ہوئے، وہ خود بھی مرے گا اور چوہدری کو بھی مروائے گا۔انور مقصود کا کہنا تھا کہ اس وقت جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور ان کا مذکورہ جملہ نشر ہوا تو ہنگامہ ہوگیا اور انہوں نے شور مچانے والوں کو بتایا کہ کردار کو درست انگریزی نہیں آتی تھی، اس لئے ایسا ہوا اور یہ مذکورہ جملے پر اعتراض کرنے والے تو کہیں نہیں جا رہے، اس لئے انہیں تو خوش ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ جھگڑے اور معاملے کے بعد ہی انہوں نے ’آنگن ٹیڑھا‘ کو جلدی ختم کیا۔انور مقصود نے انکشاف بھی کیا کہ جنرل پرویز مشرف نے انہیں انٹرویو نہیں دیا، انہوں نے تمام خواتین کو انٹرویوز دیئے۔لکھاری نے بتایا کہ انہوں نے پرویز مشرف کو پیغام بھجوایا کہ انور مقصود دوپٹا پہن کر ان کا انٹرویو کریں گے، جس کے بعد سابق آرمی چیف ان کے گھر آئے اور انہیں بتایا کہ ان کا پیغام انہیں ملا تھا۔انور مقصود کے مطابق پرویز مشرف نے انہیں بتایا کہ وہ انہیں انٹرویو نہیں دیں گے، البتہ وہ ان سے باتیں ضرور کریں گے، کیوں کہ ڈراما ساز اچھی باتیں کرلیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں