آدھی صدی گزرنے کے بعد بانی پاکستان اور ان کی بہن کی جائیداد کے کیس میں اہم پیشرفت

کراچی (حالات میڈیا ڈسک) آدھی صدی گزرنے کے بعد بانی پاکستان اور ان کی بہن کی جائیداد کے کیس میں اہم پیشرفت۔ تفصیلات کے مطابق قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح کی جائیداد کی تقسیم کے کیس میں قصرفاطمہ کیلئے موہٹہ پیلس کانام استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔سندھ ہائیکورٹ میں 5 عشروں سے زیر التوا مقدمے کی سماعت ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ جس عالی شان عمارت کو آج دنیا موہٹہ پیلس کےنام سے جانتی ہے اس کا اصل نام قصرفاطمہ تھا اور یہ محترمہ فاطمہ جناح کا مسکن تھا۔ فاطمہ جناح کی وراثت کےدعوے دار حسین والجی کے وکیل خواجہ شمس نےعدالت کو بتایا کہ مادرملت کی وصیت کے برخلاف قصر فاطمہ کو کمرشل سرگرمیوں کیلئےاستعمال کیاجارہاہے اور کروڑوں روپے کمانے کے باوجود بھی میڈیکل کالج نہیں بنایا گیا۔ناظرکی جانب سےسال 2016 میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح کے ترکے میں 9کروڑ روپے کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس،اسٹاک کے شیئرز اور دیگر چیزیں شامل ہیں. عدالت نے استفسار کیا کہ فاطمہ جناح کی وصیت کے مطابق قصر ناز کو میڈیکل کالج کیوں نہیں بنایا گیا جبکہ فاطمہ جناح نے قصر ناز کو لڑکیوں کی مفت تعلیم کیلئے جدید میڈیکل کالج بنانے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے فریقین کو قصر فاطمہ کو میڈیکل کالج میں تبدیل کرنے کیلئے سفارشات دینے کی ہدایت کی،سندھ ہائی کورٹ نے ناظر سندھ ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ترکے سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں