چیئرمین نیب کا معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو حکومت کو شکست ہوگی،اعتزاز احسن

چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع قانون کے مطابق ممکن نہیں، حکومت آرڈیننس کے ذریعے 4 ماہ کیلئے موجودہ چیئرمین نیب کو توسیع دے سکتی ہے۔سینئر قانون دان اعتزاز احسن کی گفتگو

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کا معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو حکومت کو شکست ہوگی،چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع قانون کے مطابق ممکن نہیں،حکومت آرڈیننس کے ذریعے 4ماہ کیلئے موجودہ چیئرمین نیب کو توسیع دے سکتی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع قانون کے مطابق ممکن نہیں، مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی،چیئرمین نیب کو تعینات کرنے کیلئے آرڈیننس لایا جاسکتا ہے،آرڈیننس میں چیئرمین نیب کا نام لکھنا ضروری نہیں ہے، آرڈیننس کی مدت چار ماہ کیلئے ہوگی اس کے بعد نیا چیئرمین تعینات کرنا پڑے گا، بہت پہلے کہہ چکا ہوں کہ چیئرمین نیب کا معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا،سپریم کورٹ میں حکومت کو شکست ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے عدالت میں نہیں کسی بار میں بیان دیا تھا، مریم نواز نے عدالت میں جو درخواست دی ہے اس سے وہ خود مشکل میں پڑجائیں گی، جج پوچھیں گے شواہد کہاں ہیں اور اب تک شواہد پیش کیوں نہیں کیئے؟ پریس کانفرنس کے بعد میں کہا تھا کہ ویڈیو عدالت میں پیش کردیں، میں نے کہا تھا کہ ویڈیو عدالت میں پیش کردیں گے تو نوازشریف رہا ہوجائیں گے، ویڈیو آج تک عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔
دوسری جانب اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس رجاوید اقبال آئندہ ،چیئرمین نیب کی تقرری تک کام جاری رکھیں گے، چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے حکومت نے اپوزیشن سے مشاورت کا بھی فیصلہ کیا ہے، چیئرمین نیب کو ہٹانے کا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں