بینک منیجر نے ساتھی ملازمہ کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا

ملزم نے کاغذات چیک کرنے کے لیے مجھے اپنے گھر بلایا جہاں اس نے زبردستی اسلحے کے زور پر جنسی زیادتی کی۔خاتون کا بیان

بہاولنگر (کرائم ڈیسک) : خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات تھم نہ سکے۔قومی بینک کے برانچ منیجر نے اپنی ماتحت ملازمہ کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا ۔بتایا گیا ہے کہ بینک منیجر نے اپنے ساتھ کام کرنے والی خاتون کی عزت تار تار کر دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بہاولنگر میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں بینک منیجر نے اپنی ساتھی ملازمہ کے ساتھ زیادتی کی ہے۔
مدعیہ نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ ملزم نے کاغذات چیک کرنے کے لیے مجھے اپنے گھر بلایا۔جہاں اس نے زبردستی اسلحے کے زور پر جنسی زیادتی کی ہے۔پولیس نے ملزم کے خلاف خاتون بینک ملازم کی مدعیت میں جنسی جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا۔ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیں گے۔

دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ گرین ٹاون میں زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کو ملزموں کی جانب سےجان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ میڈیکل میں زیادتی ثابت ہونے کےباوجود لڑکی دھمکیوں کی وجہ سے کیس واپس لینے پر مجبور ہوگئی ۔ جوں جوں ملک بھر میں جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی ان واقعات کے رپورٹ ہونے کے بعد انصاف کی فراہمی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ’پاکستان میں روزانہ 11 خواتین اور آٹھ بچے زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ تعداد پولیس اور دیگر اداروں کے پاس درج ہونے والی شکایات سے اخذ کی گئی ہے۔ رواں برس جنوری میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2015ء سے اب تک مجموعی طور پر جنسی زیادتی کے 22 ہزار 37 مقدمات درج ہوئے جن میں سے چار ہزار 60 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ خواتین اور بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے والدین کی تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں