بھارت کیخلاف میچ سے قبل سوشل میڈیا سے دور رہیں، عمر گل کا کھلاڑیوں کو مشورہ

کھلاڑیوں کو اپنے اعصاب پر قابو رکھنا چاہیے اور دباؤ میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ہائی وولٹیج میچ ہے: سابق فاسٹ بائولر

لاہور (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان کے سابق سپیڈ سٹار عمر گل نے ٹی 20 ورلڈ کپ سکواڈ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی مشورے دیئے۔ میگا ایونٹ رواں ماہ شروع ہونے والا ہے اور پاکستان اپنا افتتاحی میچ 24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گا۔ ایک خصوصی انٹرویو میں عمر گل نے کرکٹ کے مداحوں پر زور دیا کہ وہ سکواڈ کی پشت پناہی کریں کیونکہ حال ہی میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دورہ پاکستان سے دستبرداری کے بعد پاکستان کرکٹ پہلے ہی ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔
عمر گل کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی 20 ورلڈ کپ سکواڈ کا اعلان ہونے کے بعد سے بہت تنقید کی جا رہی ہے، میرے خیال میں ہمیں سکواڈ پر تنقید کرنی چاہیے لیکن کھلاڑیوں کے ناموں کا ذکر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے پاکستان کے دوروں کی منسوخی کے بعد ہماری کرکٹ مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے ،اب وقت آگیا ہے کہ کھلاڑیوں کو مایوس کرنے کے بجائے ان کی پشت پناہی کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو بھی دباؤ میں آنے کی بجائے اس تنقید کو مثبت انداز سے لینا چاہیے، جب مجھے بھی اپنے کیریئر کے دوران کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو میں نے بھی ایسے ہی کیا اور میدان میں اپنی کارکردگی کے ذریعے ناقدین کو جواب دینے کی کوشش کی۔ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کھلاڑیوں کے لیے دوبارہ اعتماد حاصل کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے لیے قومی ٹیم کو مفید مشورے بھی دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے خلاف میچ کا اضافی دباؤ ہے کیونکہ پوری قوم چاہتی ہے کہ آپ انہیں شکست دیں، میری تجویز یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو اپنے اعصاب پر قابو رکھنا چاہیے اور دباؤ میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ہائی وولٹیج میچ ہے ،میں یہ بھی مشورہ دوں گا کہ میچ سے 2 سے 3 دن پہلے اور خاص طور پر انڈیا کیخلاف میچ کے آس پاس کھلاڑیوں کو سماجی اور روایتی میڈیا سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارتی ٹیم مضبوط ہے جس کے پاس روہت شرا اور ویرات کوہلی جیسے کھلاڑی ہیں ۔ عمر گل کا کہنا تھا کہ حقیقت میں ہندوستان کے پاس ایک بہت مضبوط ٹیم ہے، انہوں نے اپنی ٹیم پر بہت کام کیا ہے اور بہت سے اچھے کھلاڑیوں کو ڈھونڈ کر آئی پی ایل سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ظاہر ہے کہ روہت شرما اور ویرات کوہلی ہندوستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ سنبھالیں گے لیکن اگر پاکستان ان کے ٹاپ آرڈر کو پاور پلے کے دوران پوویلین بھیجنے میں کامیاب رہا تو ان کے مڈل آرڈر بلے بازوں کو دبائو میں لایا جاسکتا ہے۔
عمر گل نے پاکستانی بولنگ اٹیک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بولنگ بہت مضبوط ہے ،حسن علی اپنی واپسی کے بعد سے زبردست فارم میں ہیں اور شاہین شاہ بھی اچھے ردھم میں نظر آرہے ہیں، ہمارے پاس دبئی اور ابوظہبی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھے سپنر بھی ہیں، مجھے ہمارے بولرز سے بہت سی توقعات ہیں۔ 37 سالہ سابق کرکٹر کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلے گی ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں آخری 4 ٹیموں میں شامل ہونے کی صلاحیت ہے ، بالخصوص تب جب میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے جا رہے ہیں کیونکہ حالات ہمارے موافق ہوں گے۔ پشاور میں پیدا ہونے والے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے دورہ پاکستان کی منسوخی پر بھی مایوس تھے۔ عمر گل کا کہنا تھا کہ پی سی بی اور سکیورٹی ایجنسیوں نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بہت محنت کی ہے۔ شائقین کی طرح میں بھی مایوس ہوا جب نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے اپنے دورے منسوخ کردیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک کرکٹر ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ گھر سے باہر کھیلنا کتنا مشکل ہے، یہ ایک کھلاڑی کی کارکردگی اور ملک میں مجموعی کرکٹ کو متاثر کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں