قطر میں پہلی بار قانون ساز مجلس شوریٰ کے لیے انتخابات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر میں قانون ساز شورٰی کونسل کے ارکان کے انتخاب کے لیے تاریخ میں پہلی مرتبہ الیکشن ہوئے۔ پینتالیس رکنی مجلس شورٰی کی دو تہائی یعنی تیس نشستوں کا انتخاب رائے دہی کے ذریعے ہو رہا ہے جبکہ بقیہ پندرہ ارکان کی تقرری قطری امیر خود کریں گے۔ ہفتے کو ووٹنگ کے دوران عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

قطر میں پہلی بار الیکشن کے انعقاد کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے تاہم ساتھ ہی الیکشن میں خواتین امیدواروں کی تعداد نہایت کم ہونے کا شکوہ بھی کیا جا رہا ہے۔
قطر: پہلے عام انتخابات دو اکتوبر کو، خواتین امیدوار بہت کم

افغانستان کی مالی مدد: چین، پاکستان اور قطر سب سے آگے

قطری تنازعہ ختم، خلیجی عرب رہنماؤں کے معاہدے پر دستخط

خلیجی ریاست قطر میں کوئی سیاسی جماعت نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی مرحلے میں تمام امیدوار بحیثت آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

امیدواروں کے لیے 30 سال سے زائد عمر اور قطری شہری ہونا لازمی ہے۔ قطر کی شہریت رکھنے والے 18 سال سے زائد عمر کے افراد ہی ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
قطر کے وزیر اعظم شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز الثانی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ قطر کی تاریخ میں منتخب شوریٰ کونسل کی تشکیل کے لیے ہونے والے پہلے انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں۔

کویت فی الحال واحد خلیجی بادشاہت ہے، جو ایک منتخب پارلیمنٹ کو خاطر خواہ اختیارات دیتی ہے، جو قوانین کو روک سکتی ہے اور وزراء سے سوالات بھی کر سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ سازی وہاں بھی ہمسایہ ریاستوں کی طرح حکمران پر ہی منحصر ہے۔
مجلس شوریٰ قطر کی قانون ساز اسمبلی کی مانند ہے۔ یہ باڈی پالیسیوں کے تعین اور بجٹ کی منظوری جیسے معاملات کی نگران ہے۔

دفاع، سلامتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری سے متعلق امور مجلس شوریٰ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
انتخابات میں تیس اضلاع سے دو سو چونتیس امیدوار شامل ہیں، جن میں سے خواتین کی تعداد صرف چھبیس ہے۔ انتخابی مہم سوشل میڈیا پر چلائی گئیں جب کہ کمیونٹی میٹنگز اور سڑکوں پر اشتہاری بورڈز کی صورت میں بھی امیدواروں نے عوامی تائید بٹوری۔

قطر میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ملکی آبادی لگ بھگ دو اعشاریہ آٹھ ملین ہے، جس میں قطری شہریوں کا تناسب صرف دس فیصد ہے۔ لیکن ان میں سے بھی تمام شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک قانون کے تحت صرف ان شہریوں کو حق رائے دہی حاصل تھا، جن کے اہل خانہ سن 1930 سے قبل بھی قطر میں تھے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی ہزاروں قطری شہریوں کے ووٹ نہ ڈال سکنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں