اسرائیل نے ایک اور اسلامی ملک میں اپنا سفارتخانہ کھول دیا

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے بحرین کے دورے پر منامہ میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح کیا ، سال کے آخر تک اسرائیل میں بحرینی سفارتخانہ بھی کھل جائے گا

منامہ ( انٹرنیشنل ڈیسک ) اسرائیل نے ایک اور اسلامی ملک میں اپنا سفارتخانہ کھول دیا ، اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لپیڈ نے بحرین کے دورے پر منامہ میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح کیا ، سال کے آخر تک اسرائیل میں بحرینی سفارتخانہ کھل جائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداے کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے ایک سال بعد بحرین کا دورہ کیا ہے جہاں منامہ میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح کیا گیا ، یائر لیپڈ نے کہا ہے کہ ہم نے بحرین میں اسرائیلی سفارت خانہ باضابطہ طور پر کھول دیا ہے ، ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ سال کے آخر تک اسرائیل میں بحرینی سفارتخانہ بھی کھل جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ بحرین کی طرف سے تسلیم کیے جانے اور تعلقات کی بحالی کے بعد اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لیپڈ جمعرات کو بحرین پہنچے جو کہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے گزشتہ سال ہونے والے ایک اہم معاہدے پر دستخط کے بعد کسی بھی سینئر اسرائیلی سرکاری عہدیدار کا خلیجی ریاست کا یہ پہلا اعلیٰ سطح کا دورہ ہے ، یائر لیپڈ اپنے بحرینی ہم منصب سے ملاقاتوں اور اسرائیل کے سفارت خانے کا افتتاح کرنے کے لیے بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچے ہیں ، اسرائیلی سفارتی وفد اپنے بحرین کے ہم منصبوں سے ملاقات کرے گا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے معاہدوں پر دستخط کرے گا۔

خیال رہے کہ بحرینی حکام کے گذشتہ سال نومبر میں اسرائیل کے سرکاری دورے کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے اپنے سفارت خانے کھولنے،آن لائن ویزا سسٹم شروع کرنے اور ہفتہ وار پروازیں چلانے سے اتفاق کیا تھا ، بحرین اور اسرائیل نے اکتوبر 2020ء میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں اور مشترکہ اعلامیے پر دست خط کیے تھے ، تب اسرائیل اور امریکا کے اعلیٰ سطح کے وفد نے منامہ کا دورہ کیا تھا اوربحرینی حکام سے مختلف امور پر بات چیت کی تھی۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال چار اسلامی ممالک یو اے ای، متحدہ عرب امارات، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا ، جس کے بعد بحرین بھی ان ممالک مین شامل ہوگیا ، اسلامی ممالک کے اس فیصلے پر فلسطینی حکومت اور عوام نے سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا اور دُنیا کے کئی مسلم ممالک کی عوام نے بھی اس فیصلے کو سخت ناپسند کیا تھا تاہم ان ممالک نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے اسرائیل سے دوستی کا معاہدہ بھی کر ڈالا ہے جس کے بعد تجارتی، سفارتی، طبی و سائنسی شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں