عمران خان نے ریفرنڈم کی مہم چلانے پر مشرف سے بھی پلاٹ لیا ہوگا، میاں نوازشریف

عمران خان پلاٹ کے بغیر آگے چلتا ہی نہیں ہے، جس طرح مشرف کے ریفرنڈم میں کمپیئن کی تھی اس سے بھی پلاٹ لیا ہوگا۔قائد مسلم لیگ ن اورسابق وزیراعظم کا فیصل آباد ڈویژن کے پارٹی کارکنان سے خطاب

لاہور (بیورو رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے ریفرنڈم مہم چلانے پر مشرف سے بھی پلاٹ لیا ہوگا،عمران خان پلاٹ کے بغیر آگے چلتا ہی نہیں ہے،جس طرح مشرف کے ریفرنڈم میں کمپیئن کی تھی اس سے بھی پلاٹ لیا ہوگا۔ انہوں نے لندن سے ویڈیو لنک پر فیصل آباد ڈویژن کے پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ اللہ سے ڈر کر بات کررہا ہوں کہاں ہے آج مشرف جو کہتا تھا کہ نواز شریف کا دور ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا، نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو اب تاریخ بن چکے ہیں، نوازشریف اب کبھی پاکستان واپس نہیں آئے گا، میں تو الحمدلله تیسری بار وزیر اعظم بنا، لیکن آج وه کدھر ہے؟ نوازشریف نے کہا کہ عمران خان نے جس طرح مشرف کے ریفرنڈم میں کمپیئن کی تھی اس سے بھی پلاٹ لیا ہوگا، عمران خان پلاٹ کے بغیر آگے چلتا ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن الیکشن جیت رہی تھی، جب دیکھا کہ ن لیگ کلین سویپ کررہی ہے تو ان کو آرٹی ایس بند کرنا پڑا، الیکشن کے اندر ووٹ کو چوری کرنا پڑا، اتنی توڑ پھوڑ اور بندے توڑنے کے باوجود جب کام نہیں بنا تو آرٹی ایس بند کردیا، آرٹی ایس بند کرنا آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتا ہے، اس کا حساب لینا ضروری ہے۔ سنیں کہ 74 سالوں میں لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ، چوہدری محمد علی، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر،فیروز خان،بھٹو، جونیجو، بےنظیر، نواز شریف، جمالی، یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کیا ہوا؟ ہم ابھی بھی نہیں جاگیں گے تو کب جاگیں گے؟ انہوں نے12 اکتوبر 1999 کے مارشل لاء کے حوالے سے بتایا کہ مجھے گرفتار کرنے کے بعد جنرل اورکزئی اور جنرل محمود رات کو میرے پاس آئے اور دھمکی آمیز لہجے میں کہنے کہ لگے اس کاغذ پر دستخط کریں کہ اسمبلی آپ نے اپنی مرضی سے توڑی ہے۔
میں نے جواب دیا میں دستخط نہیں کروں گا، اس کاغذ پر دستخط کیلئے میری لاش سے گزرنا ہوگا۔ نوازشریف نے شعر سنایا ’ اکبر نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی، جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا‘ جب میں نے فوجی جرنیلوں کے دیے کاغذ پر دستخط سے انکار کیا تو مجھے کہنے لگے کہ اب ہم آپ کو مزہ چکھائیں گے، میں نے جواب دیا کہ اللہ مالک ہے۔ مجھے ایسے کمرے میں بند کر دیا جہاں ہر طرف دھول تھی، میں اسی دھول میں یہ سوچ کر سو گیا کہ یہ دھول بھی چھٹ جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں