14

بائیڈن انتظامیہ کو جزوی شٹ ڈاﺅن کے خطرے کا سامنا

خراب معاشی صورتحال میں شیٹ ڈاﺅن انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے .ماہرین کا انتبا

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک ) امریکی سینیٹ نے حکومت کی جانب سے ہنگامی اخراجات اور قرضوں کی حد بڑھانے سے متعلق دو بلوں کو روک دیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت کو جزوی شٹ ڈاﺅن کے خطرے کا سامنا ہے. بائیڈن حکومت متوقع طور پر اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں قرضوں کے معاملے پر ڈیفالٹ کر جائے گی ایسے میں ڈیموکریٹ ارکان نے سینیٹ میں قرضوں کی حد بڑھانے اور ہنگامی اخراجات سے متعلق بلوں کو منظوری کے لیے پیش کیا ری پبلکن اراکین کانگریس نے دونوں بلوں کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے پارٹی بنیادوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 48 کے مقابلے میں 50 رہی.

ڈیموکریٹس کو اگرچہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی برتری حاصل ہے لیکن سینیٹ کے قوانین کے مطابق چیمبر میں قوانین کی منظوری کے لیے 100 میں سے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں ری پبلکنز کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیموکریٹ خود سے قرضوں کی حد میں اضافہ کریں کیوں کہ وہ ڈیموکریٹ حکومت کے کئی ٹریلین ڈالر کے اخراجاتی منصوبوں کی حمایت نہیں کرتے.
سینیٹ میں ری پبلکن کے اہم رہنما مچ میکونل نے سینیٹ کے فلور پر کہا کہ ہم ڈیموکریٹ کو قرضوں کی حد بڑھانے کی مدد کا ارادہ نہیں رکھتے کیوں کہ وہ خاموشی سے، تاریخی اعتبار سے انتہائی بڑے اخراجات اور اندھا دھند ٹیکس لگانے کے منصوبے رکھتے ہیں ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ قوم پر زیادہ تر قرضے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں لادے گئے تاریخی اعتبار سے دونوں جماعتوں نے امریکہ کو قرضوں کے معاملے پر ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے قرضوں کی حد میں اضافے کے حق میں ووٹ دے رکھا ہے.
ڈیموکریٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ ری پبلکن کا اقدام ایسا غیر ذمہ دارانہ اور غیر محتاط ہے جو انہوں نے سینیٹ میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا انہوں نے کہا کہ بلوں کی مخالفت کر کے ری پبلکن پارٹی نے خود کو ڈیفالٹ پارٹی کے طور پر مضبوط کر لیا ہے. مچ میکونل نے کہا کہ ری پبلکنز حکومتی اخراجات کے بل کی روزانہ کے آپریشنز کے لیے منظوری کی حمایت کریں گے تاکہ منگل کے بعد حکومت کے پاس پیسے ختم نہ ہوں تاہم ڈیموکریٹ نہیں چاہتے کہ وہ حکومت کے اخراجات کو قرضوں کی حد بڑھانے کے بل سے الگ کریں ان اقدامات کی منظوری پر تعطل کے علاوہ کانگریس انفراسٹرکچر کے ایک ٹریلین ڈالر کے دو جماعتی بل اور ڈیموکریٹس کے تین اعشاریہ پانچ ٹریلین کے سماجی اخراجات اور موسمیاتی تغیر بل پر بھی عدم اتفاق رکھتی ہے ایوان نمائندگان نے انفراسٹرکچر بل پر بحث کی ہے اور اگلے دو روزمیں اس پر رائے شماری ہونی ہے یہ انفراسٹرکچر بل صدر جو بائیڈن کے قومی ایجنڈے کا سب سے بڑا حصہ ہے.
ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اس بل پر رائے شماری کی تاریخ کا اعلان ڈیموکریٹک اراکین کے نام اتوار کو ایک خط میں کیا تھا ادھر ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ یہ بل منظور ہو جائے گا نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ وہ انفراسٹرکچر بل کو اس ہفتے منظور کرنے جا رہے ہیں واضح رہے کہ سینیٹ نے انفراسٹرکچر کے منصوبے کی گزشتہ ماہ منظوری دی تھی جس میں پچاس ریاستوں سے ری پبلکنز کے19 راہنماﺅں نے بھی ڈیموکریٹک کاکس میں شرکت کی تھی.
بائیڈن حکومت کے انفراسٹرکچر بل میں پرانی سڑکوں اور پلوں کی مرمت، وسیع تر براڈ بینڈ، پینے کے پانی کے نظام کی تبدیلی، ریل ٹرانسپورٹ سسٹمز میں توسیع اور ہوائی اڈوں کی بہتری شامل ہے. صدر جو بائیڈن اپنے ساتھی ڈیموکریٹس سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں تاکہ ان کے اس بارے میں قانون سازی کے ایجنڈے کو منظور کیا جا سکے . امریکا میں حکومت کے شیٹ ڈاﺅن کے اثرات کاﺅنٹی کی سطح تک وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے چلنے والے اداروں اور ملازمین پر پڑتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اوبامہ دور کے شیٹ ڈاﺅن کے مقابلے یہ شیٹ ڈاﺅن امریکی معاشیات کے لیے انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ کورونا لاک ڈاﺅنزکی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی بحران ہے اور ایسی صورتحال میں شیٹ ڈاﺅن کے اثرات انتہائی خطرناک ہونگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں