16

اسلامی ملک میں خواتین کے اسمارٹ فون کے استعمال اور میک اپ کرنے پر پابندی عائد

یمن میں غیر شادی شدہ لڑکیوں کو شادی کی تقریبات میں سجنے سنورنے یا چہرے کا پاؤڈر استعمال کرنے یا ٹیکسی میں محرم کے بغیر سوار ہونے کی بھی اجازت نہیں ہوگی

یمن (حالات انٹرنیشنل ڈیسک) اسلامی ملک میں خواتین کے اسمارٹ فون کے استعمال اور میک اپ کرنے پر پابندی عائد، یمن میں غیر شادی شدہ لڑکیوں کو شادی کی تقریبات میں سجنے سنورنے یا چہرے کا پاؤڈر استعمال کرنے یا ٹیکسی میں محرم کے بغیر سوار ہونے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ادارے العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثی ملیشیا نے صنعاء صوبے کے ایک گاؤں میں رہنے والی خواتین پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
حوثی ملیشیا نے گاوں کے شیوخ سے ایک معاہدے پر زبردستی دستخط کروائیں ہیں، جس کے مطابق علاقے میں رہنے والی خواتین کو کسی صورت اسمارٹ فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اسمارٹ فون فراہم کرتا ہے تو اس پر 2 لاکھ یمنی ریال اور ایک عدد گائے دینے کا جرمانہ عائد ہو گا۔

یہ پابندی بھی عائد کی گئی ہے کہ خواتین بالخصوص غیر شادی شدہ لڑکیوں کو شادی کی تقریبات میں سجنے سنورنے یا چہرے کا پاؤڈر استعمال کرنے یا ٹیکسی میں محرم کے بغیر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ لڑکیوں کا امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق “حوثی ملیشیا نے صنعاء صوبے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین کی آزادی کو نشانہ بنانے اور اسے کچلنے کے حوالے سے اپنی کارستانیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ اقدامات مختلف عنوانات کے تحت کیے جاتے ہیں جن میں مذہبی فرقہ واریت پر مبنی نمایاں ترین ہیں۔ اس سے قبل حوثی ملیشیا نے جامعات میں متعدد فیصلے لاگو کیے۔ یہ فیصلے مرد اور خواتین کے اختلاط، گریجویشن تقریب، مقامات عامہ پر لباس اور نشست، خواتین کے کیفوں کی بندش وغیرہ سے متعلق ہیں”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں