12

ساہیوال میں حافظ قرآن لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی کا دلخراش واقعہ

سہیلی کی ماں نے متاثرہ لڑکی کو قرآن خوانی میں شرکت کیلئے گھر لے جاتے ہوئے اغوا کروایا اور پھر 3 افراد کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنوا ڈالا

ساہیوال(حالات کرائم ڈیسک) ساہیوال میں حافظ قرآن لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی کا دلخراش واقعہ، سہیلی کی ماں نے متاثرہ لڑکی کو قرآن خوانی میں شرکت کیلئے گھر لے جاتے ہوئے اغوا کروایا اور پھر 3 افراد کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنوا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق ساہیوال کے نواحی علاقے چک 52 فائیو ایل میں حافظ قر آن 16 سالہ لڑکی کی عزت تار تار کر دی گئی، محمد عرفان ،محمد رفیق،منیر احمد نامی جنسی درندوں نے 2 خواتین کی مدد سے متاثرہ لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا اور اب تک دو ملزمان عرفان اور محمد رفیق کو گرفتار کیا جا چکا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کو 11ستمبر کو قرآن خوانی میں شرکت کے بہانے اس کی سہیلی کی ماں گھر سے لے کر نکلی اور پھر راستے میں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت طالبہ کو اغوا کر لیا گیا۔

محمد عرفان،محمد رفیق اور منیر احمد نامی ملزمان اپنی ساتھی خواتین کیساتھ مل کر متاثرہ لڑکی کو ایک گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں معصوم لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔

اس حوالے سے مقامی ذرائع کے مطابق پولیس نے اپنی روایتی نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 14 دن کی کی تاخیر سے مقدمہ درج کیا اور پھر دو ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔ واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
وزیراعظم اور کئی وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ جبکہ عوامی سطح پر چلائی جانے والی مہم کے بعد کچھ ماہ قبل ہی سانحہ موٹروے میں ملوث ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں