15

ویکسی نیشن کے ایک دو جعلی سرٹیفکیٹ کیس ہر جگہ ہوتے ہیں، پلیتھا ماہی پالا

پاکستان میں تھر سے چین کی سرحد تک ویکسی نیشن کے آن لائن اندراج کو خود دیکھا، کسی معاملے میں بھی 100فیصد درستی نہیں ہوسکتی۔ پاکستان میں ڈبلیوایچ او کے کنٹری سربراہ کی میڈیا بریفنگ

اسلام آباد (حالات نیوز ڈیسک) پاکستان میں ڈبلیوایچ او کے کنٹری سربراہ پلیتھا ماہی پالا نے کہا ہے کہ ویکسی نیشن کے ایک دو جعلی سرٹیفکیٹ کیس ہر جگہ ہوتے ہیں، پاکستان میں تھر سے چین کی سرحد تک ویکسی نیشن کے آن لائن اندراج کو خود دیکھا، کسی معاملے میں بھی 100فیصد درستی نہیں ہوسکتی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ پلیتھاماہی پالانے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں 2 فیصد آبادی کو بھی ویکسین نہیں لگائی گئی، پاکستان ویکسین لگانے میں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، پاکستان ایک روز میں 10 لاکھ ویکسین خوراکیں لگا رہا ہے، پاکستان کی ویکسین لگانے کی مہم انتہائی تیز اور مئوثر ہے، پاکستان میں مکمل ویکسی نیشن یافتہ افراد کی تعداد 20 فیصد سے زائد ہوچکی ہے، اسی طرح پاکستان میں جزوی ویکسی نیشن والوں کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہوچکی ہے۔

اس کے برعکس دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں ویکسین وافراور ویکسی نیشن زیادہ ہونے کے باوجود کورونا کیسز کی تعداد زیاد ہ ہے۔پاکستان میں احتیاطی تدابیر کے باعث ویکسین کم ہونے کے باوجود کیسز کم رہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں این سی اوسی نے بہترین کام کیا، پاکستان میں کورونا رسپانس میں بہترین کوآرڈی نیشن رہی، پاکستان میں کورونا سے اموات کی شرح بھی کم رہی ۔
انہوں نے کہا کہ چوتھی لہر میں ویکسین کے باعث شرح اموات کم ہوئی، گزشتہ کئی روز سے ویکسی نیشن کے باعث کسی ہیلتھ ورکر کی موت نہیں ہوئی، پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤ ن کی حکمت عملی کے باعث ڈیلٹا کیسز میں کمی آئی ۔پاکستان جینومک سیکونسنگ کررہا ہے۔ کنٹری سربراہ پلیتھا ماہی پالا نے کہا کہ پاکستان میں ویکسی نیشن ڈیٹا کا آن لائن اندراج ہورہا ہے، تھر سے چین کی سرحد تک ویکسی نیشن کے آن لائن اندراج کو خود دیکھا، ایک دو جعلی سرٹیفکیٹ کے کیس ہر جگہ ہوتے ہیں، کسی معاملے میں بھی 100فیصد درستی نہیں ہوسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں