17

قومی اسمبلی کے 56 حلقوں میں آبادی سے زیادہ ووٹروں کے اندراج کا انکشاف

یہ حلقے صوبہ سندھ کے ہیں جہاں صوبے کے 3 ہزار 540 شماریاتی بلاکس میں آبادی سے زائد ووٹرز کے اندراج کا انکشاف ہوا ، الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

اسلام آباد ( حالات نیوز ڈیسک ) قومی اسمبلی کے 56 حلقوں میں آبادی سے زیادہ ووٹروں کے اندراج کا انکشاف ہوگیا ، الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے صوبہ سندھ کے ہیں جہاں صوبے کے 3 ہزار 540 شماریاتی بلاکس میں آبادی سے زائد ووٹرز کے اندراج کا انکشاف ہوا ہے ، شہر قائد کے صلج وسطی کے 529 سینسز بلاکس میں آبادی سے زیادہ ووٹرز کے نام درج کیے گئے، ضلع شرقی میں 15 ، سکھر میں 3 اور قمبر شہداد کوٹ میں آبادی سے 2 فیصد زائد ووٹرز کا اندراج کیا گیا اسی طرح کراچی کے ضلع وسطی، شرقی جنوبی، کورنگی میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر 5 فیصد زائد ووٹرز درج کیے گئے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آبادی اور ووٹرز کے اعداد و شمار میں فرق پر نوٹس لے لیا اور صوبہ سندھ کے 3 ہزار 540 شماریاتی بلاکس میں ووٹرز کی جانچ پڑتال کی ہدایت کردی ہے اس کے علاوہ سندھ کے تمام ضلعی الیکشن کمشنرز کو ووٹرز کی فہرستوں پر نظر ثانی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
دوسری طرف سینئر صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ 2023 میں الیکشن میں نئی جماعت منظر عام پر آ ئے گی،نئی سیاسی جماعت میں پاکستان تحریک انصاف، ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے بھی بہت سے لوگ شامل ہوں گے ، ہو سکتا ہے کہ اس سیاسی جماعت میں چوہدری نثار یا جہانگیر ترین بھی ہو ں، پنجاب میں اب شہباز شریف سٹائل کو تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے۔

اسی حوالے سے سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر ایک نیا گروپ بلکہ ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے کے بارے میں غور و فکر ہو رہا ہے ، گورنر پنجاب چوہدری سرور اور علیم خان کا نام لیا جا رہا ہے ، یہ سوچا جا رہا ہے کہ ایک گروپ یا پارٹی بنائی جائے، دلیل یہ دی گئی ہے کہ 6 ممبران کے ساتھ ق لیگ 60 ممبران جتنا فائدہ اٹھا رہی ہے ، اگر جہانگیر ترین گروپ کا تعاون حاصل ہو جائے تو ایک بڑی سیاسی جماعت بنا سکتے ہیں جو بہت سی سیٹیں جیت سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں