16

پاکستان، چین سمیت تمام ممالک طالبان پر دباؤ ڈالنے کیلئے متحد ہیں، امریکی وزیر خارجہ

پاکستان، چین اور روس کے ساتھ گفتگو کے بعد ان کا ماننا ہے کہ دنیا، طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحد ہے، اٹونی بلنکن

نیویارک (حالات انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ پاکستان، چین اور روس کے ساتھ گفتگو کے بعد ان کا ماننا ہے کہ دنیا، طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحد ہے۔تفصیلات کے مطابق انٹونی بلنکن نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے سائیڈلائن ملاقات کی تھی، چین اور روس سمیت سلامتی کونسل کے چار ویٹو طاقت رکھنے والے ممالک کے وزرا سے بھی بات چیت کی تھی۔
انٹونی بلنکن نے صحافیوں کو بتایا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں مقصد اور نقطہ نظر کا بہت مضبوط اتحاد ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کہتے ہیں کہ وہ قانونی حیثیت اور عالمی برادری کی حمایت چاہتے ہیں، تاہم عالمی برادری کے ساتھ ان کے تعلقات کی وضاحت ان کے اقدامات کے بعد ہوگی۔

انٹونی بلنکن نے طالبان کیلئے امریکا کی افغان اور غیر ملکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے، خواتین، بچیوں اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنے اور افغانستان کو دوبارہ انتہا پسند القاعدہ کی طرح کسی کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے سے دینے کی ترجیحات کو دہرایا۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ انٹونی بلنکن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ گفتگو میں سفارتی روابط کو مربوط کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پاکستان نے طالبان کے ساتھ رابطہ کرنے اور افغانستان کے مجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم شاہ محمود قریشی کا رواں ہفتے کہنا تھا کہ پاکستان کو نئی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، مغربی ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے امریکی سیکریٹری خارجہ کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ہمیں مشترکہ طور پر کام کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہے تاکہ امن و استحکام کا مشترکہ مقصد حاصل کیا جاسکے۔چین اور روس دونوں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے آگے بڑھ چکے ہیں تاہم وہ بھی جلد ان کی حکومت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور انہیں مذہبی انتہا پسندی سے متعلق دیرینہ خدشات ہیں۔طالبان نے گزشتہ ماہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے امریکی فوجی انخلا کے بعد افغانستان پر قبضہ کر لیا، جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں سے جاری امریکا کی طویل جنگ کو مزید وسیع کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں