92

ڈسکہ میں فائرنگ، پولیس لیگی رہنما کی گرفتاری کے بنا ہی واپس لوٹ گئی ڈسکہ میں فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ تھانہ بمبانوالہ میں درج، رانا ثنائ اللہ مقدمے میں نامزد نہ ہوئے

ڈسکہ(بیورو رپورٹ) ڈسکہ میں فائرنگ، پولیس لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے بنا ہی واپس لوٹ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈسکہ میں فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ تھانہ بمبانوالہ میں درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ پی ٹی آئی کے مقتول کارکن ماجد کے بھائی قمر نے درج کروایا۔ مقدمے میں خالد باگڑی ، جاوید، حسن دستگیر اور رئیس خالد کو نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے میں رانا ثنائ اللہ کے نامزد نہ ہونے کے باعث پولیس لیگی رہنما مستنصر گوندل کے گھر کے باہر سے واپس لوٹ گئی ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 سیالکوٹ میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران 5 پولنگ سٹیشنز کے قریب نا معلوم افراد کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق جب کہ 7 زخمی ہوگئے ، جس کے باعث ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔تفصیلات کے مطابق ڈسکہ میں نامعلوم افراد کی جانب سے اسلحے کا بے دریغ استعمال کیا گیا ، جہاں نامعلوم افعاد نے ناصرف دھڑلے سے فائرنگ کی بلکہ اس کے بعد کامیابی سے رفو چکر ہونے میں بھی ہوگئے ، فائرنگ کا ایک واقعہ ڈسکہ کے نواحی گاو ¿ں گوئندکے میں رونما ہوا ، اس کے علاوہ گورنمنٹ ہائی سکول نسبت روڈ کے پولنگ سٹیشن پر بھی نامعلوم کارسواروں نے فائرنگ کی ، شہر کے مین بازار میں قائم پولنگ سٹیشن کے قریب 4 نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے خواتین خوف کے باعث گھبرا کر پولنگ سٹیشن کے باہر سے چلی گئیں۔بتایا گیا ہے کہ ڈسکہ کلاں کے علاقے میں بھی رنگیلا چوک کے قریب پولنگ سٹیشن کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی جب کہ ڈسکہ پوسٹ گریجوایٹ کالج کے سامنے بھی نامعلوم افراد نے پولیس کی موجودگی میں فائرنگ کی ، جس کے بعد وہ جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے ، فائرنگ کے ان تمام واقعات میں مجموعی طور پر 2 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 7 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ، تاہم فائرنگ کے ان سارے واقعات میں سے کسی میں بھی ملزمان کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں لائی جاسکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں