12

امریکی ایف بی آئی نے نائن الیون حملوں کی تحقیقات کا پہلا مسودہ جاری کردیا

مسودے میں سعودی حکومت کے ہائی جیکرز سے رابطوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا تاہم دستاویزات میں ہائی جیکروں کے امریکہ میں سعودی ساتھیوں کے ساتھ رابطوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ غیرملکی خبر ایجنسی

واشنگٹن ( حالات انٹرنیشنل ڈیسک ) امریکہ کی ایف بی آئی نے نائن الیون حملوں کی تحقیقات کا پہلا مسودہ جاری کردیا۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایف بی آئی کی تحقیقات کا پہلا مسودہ 16 صفحات پر مشتمل ہے ، مسودے میں سعودی حکومت کے ہائی جیکرز سے رابطوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، تاہم دستاویزات میں ہائی جیکروں کے امریکہ میں سعودی ساتھیوں کے ساتھ رابطوں کی وضاحت کی گئی ہے جب کہ ہائی جیکرز اور امریکہ میں سعودی قونصل حکام کے تعلق پر تحقیقات سامنے لائی گئیں ، نائن الیون انکوائری کمیشن کے سربراہ ٹامس کین نے کہا کہ امریکہ میں پیش آئے واقعات میں سعودی عرب کےملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا ، انہوں نے کہا کہ طیاروں کے حملے کو روکا جا سکتا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کچھ روز پہلے تحقیقات منظرعام کرنے کا اعلان کیا تھا ، امریکہ میں سعودی سفارتخا نے کا ایف بی آئی تحقیقات کو ڈی کلاسیفائی کرنے کا خیر مقدم کیا ہے ، سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس نے 11 ستمبر کے معاملے پر ہمیشہ شفافیت پرزوردیا ہے، توقع ہے کہ خفیہ دستاویزات سامنے آنے سے سعودی عرب کے خلاف بے بنیاد الزامات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔

یاد رہے کہ نائن الیون کے واقعہ کو آج بیس سال مکمل ہو گئے ہیں ، نائن الیون کے سینکڑوں متاثرین کے اہل خانہ نے گذشتہ ماہ امریکی صدر کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں متاثرین نے امریکی صدر جوبائیڈن کوکہا تھا کہ اس سال حملوں کی 20 سال مکمل ہونے کی تقریب میں انہیں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا جب تک کہ وہ حملے سے متعلق حکومتی شواہد کو سامنے نہیں لاتے۔
اس کے جواب میں امریکی صدر جوبائیڈن نے 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنےکا حکم دیا تھا ، امریکی صدر کی جانب سے حکومتی تحقیقات کی خفیہ دستاویزات اگلے 6 ماہ میں جاری کرنےکے حکم نامے پر دستخط کر دیے گئے ، اپنے ایک بیان میں صدر بائیڈن نے تاکید کی تھی کہ محکمہ انصاف اور دیگر ایجنسیاں دستاویزات جاری کرنےکے جائزے کی نگرانی کریں ، صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا ہمیں 2 ہزار 977 بےگناہ لوگوں کے خاندانوں کے درد کو نہیں بھولنا چاہیے، یہ لوگ امریکا کی تاریخ کے بدترین دہشتگرد حملے میں مارے گئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں