15

ایف بی آر کا سسٹم7 دنوں تک انڈین ہیکرز نے ہیک کیا تھا،شوکت ترین کا انکشاف

اسلام آباد (حالات نیوز ڈسک) وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ایف بی آر کا سسٹم7 دنوں تک انڈین ہیکرز نے ہیک کیا تھا، سسٹم ہیک ہونے پر جس کو سزا ملنی چاہیے تھی اس کو مل چکی ہے، اب ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے سینیٹ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ دی جس میں انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کا سسٹم7 دنوں تک انڈین ہیکرز نے ہیک کیا تھا، اس سے قبل بھی انڈین ہیکرز نے 2019ء میں بھی ایف بی آرکا سسٹم ہیک کیا تھا۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ سسٹم ہیک ہونے پرجس کوسزا ملنی چاہیے تھی اس کو مل چکی ہے، اب ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ یاد رہے گزشتہ ماہ ایف بی آر سسٹم ہیک ہو گیا تاہم سسٹم ہیک ہونے سے ایف بی آر سسٹم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اہم حصہ اب فعال ہے۔شوکت ترین نے کہا تھا کہ ایف بی آر کی رپورٹ کا غیر ملکی ماہرین تفصیلی جائزہ لیں گے۔
جس کے بعد آئندہ ہیکنگ سے بچنے کیلئے نظام کو بہتر بنایا جائےگا۔ وفاقی وزیر نے بریفنگ میں مزید کہا کہ ایف بی آر نوٹسز کا سلسلہ روک دیا گیا ہے،ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ افراد کا ڈیٹا موجود ہے جو سیلز ٹیکس دے سکتے ہیں، یہ ڈیٹا نادرا سے حاصل کیا گیا ہے اور ان کو ایک پیغام بھیجا جائے گا،اگر وہ پیغام پر اپنا جواب دیتے ہیں تو ٹھیک نہیں تو قانونی کاروائی ہوگی، شوکت ترین نے کہاکہ ایکسچینج ریٹ اس وقت جہاں موجود ہے اس جگہ پر ہونے کا ہدف تھا، ایکسچینج ریٹ کو مصنوعی طور پر کم رکھنے سے نقصان ہوتا ہے، ایکسچینج ریٹ کا فیصلہ سٹیٹ بینک نے کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ کامیاب پاکستان پروگرام جلد شروع کیا جائیگا، پہلے مرحلے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کامیاب پاکستان پروگرام شروع کیا جائیگا، ہم غریبوں کیلئے یہ پروگرام شروع کریں گے، پورے پاکستان میں کامیاب پاکستان پروگرام شروع کرنا ابھی ممکن نہیں ہے،انہوں نے کہاکہ افغانستان کے مالی ذخائر کو دنیاکے کئی ممالک نے منجمد کیا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ تجارت پاکستانی روپے میں ہوگی، چند ہفتوں بعد یہ معلوم ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، افغانستان کی موجودہ صورتحال میں معمولات چلانے کیلئے یہاں سے افراد ی قوت کی فراہمی کی صورت میں معاونت کی جاسکتی ہے، اکتوبر میں کمیٹی کو پہلی سہ ماہی کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دوں گا، اگست میں امپورٹ بل میں اضافہ ہوا، ماہانہ بنیادوں پر درآمدات، برآمدات سمیت معیشت کا تجزیہ کیا جاتا ہے، پائیدار ترقی کیلئے معاشی شعبوں کا جائزہ لیا جارہا ہے، ماضی میں پائیدار شرح نمو نہ ہونے کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا، اچھی خبر یہ ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے، تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کا بتایا گیا ہے، انہوں نے کہاکہ انڈین ہیکرز نے ایف بی آر کا سسٹم ہیک کیا تھا، انڈین ہیکرز نے 2019 میں بھی ایف بی آر کا سسٹم ہیک کیا، سسٹم ہیک ہونے پر جس کو سزا ملنی چاہیے تھی اس کو مل چکی،ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم کو اپگریڈ کیا جا رہا ہے، شوکت ترین نے کہاکہ 19۔
2018 میں روپے کی قدر گرائی گئی جس کا اثر ہوا،اس وقت مہنگائی کی سطح 8.4 فیصد فوڈ انفلیشن10.5 فیصد پر ہے ،فوڈ پرائسز اس وقت سب سے ہمارا سب بڑا مسئلہ ہے،پوری دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب خوراک کے آئٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے،اب ہم اس وقت سے گزر رہے ہیں لیکن اس کو کنٹرول کریں گے،وزیر خزانہ نے کمیٹی کوبتایاکہ گزشتہ ایک سال میں گھی کی قیمتوں میں 90 فیصد اضافہ ہوا،دالوں کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد کا اضافہ ہوا،یہ وہ آئٹمز ہیں جو ہم باہر سے منگواتے ہیں ،وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایاکہ پٹرولیم مصنوعات پر پوری کوشش کی کہ لیوی کے ذریعے ریلیف دیا جائے،باہر سے منگوا کر جو آئٹمز فروخت کررہے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہے،جیکب آباد میں پیاز اگانے والے کو چار روپے ملتے ہیں اور یہاں خریدنے والا 30 روپے ادا کرتاہے،مڈل مین کا کردار ختم کریں گے جو مہنگائی کاسبب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں