40

’’امریکا میں برفانی طوفان نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ‘‘ 10لاکھ افراد متاثر ہو گئے ، جانی نقصان ہو گیا

واشنگٹن (این این آئی )امریکا کی ریاست نیویارک میں برفانی طوفان کے سبب ہونے والی کئی انچ برف باری سے نظام زندگی متاثر ہوگئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مختلف ریاستوں میں پائپ لائنز میں پانی جمنے سے شہریوں کو دہرے مسائل کا سامنا ہے، لوزی اینا میں 10 لاکھ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ریاست ٹیکساس میں صورتحال بہترہونے لگی، 20 لاکھ گھروں کو بجلی کیفراہمی بحال کردی گئی ہے جبکہ کئی دیگر ریاستوں میں اب بھی لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہیں۔امریکا بھر میں برفانی طوفان کے سبب اموات کی تعداد 36 تک جا پہنچی ہے۔ لوزی اینا میں

10 لاکھ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں جب کہ ریاست ٹیکساس میں صورتحال بہترہونے لگی ہے اور 20 لاکھ گھروں کو بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں کئی دیگر ریاستوں میں اب بھی لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہیں۔قبل ازیں امریکا کی مختلف ریاستوں میں برفباری، طوفان اور کڑاکے دار سردی میں 26 افراد ہلاک ہوگئے۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکی ریاستوں میں اس سال موسم سرما ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے،برفباری اور طوفان کے باعث ٹیکساس ، کینٹکی اور مسوری میں26 افراد ہلاک ہوگئے۔زیادہ تر ہلاکتیں برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن سے ہونے والے ٹریفک حادثات میں ہوئیں 7 افراد سخت سردی کو برداشت نہ کرپائے اور جان کی بازی ہار گئے، اسی طرح 3 افراد طوفان میں ہلاک ہوگئے اور چھ مزید افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ،سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ٹیکساس میں ہوا ہے جہاں جمادینے والی سردی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور بجلی کا نظام درہم برہم ہونے سے 30 لاکھ افراد بجلی سے محروم ہوگئے جس کے باعث عملاً بلیک آئوٹ ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کو تاریخی طوفان سے متاثرہ افراد کے لئے اضافی ہنگامی وسائل کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں جب کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور پولیس پٹرولنگ کو بے گھر افراد کو سردی سے بچانے کے لیے انتظام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔طوفان سے سب سے زیادہ نقصان اٹلانٹا اور شمالی کیرولائنا میں ہوا اور درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔برفانی طوفان کے باعث امریکی ریاستوں ٹیکساس،کینٹکی اور الاباما سمیت 7ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں