49

چار ٹک ٹاکرز کے قتل کا واقعہ ، پولیس خاتون ٹک ٹاکرز کو گرفتار کر لیا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )مسکان شیخ سمیت 4 ٹک ٹاکرز کے قتل کے واقعہ ، پولیس نے ایک اور خاتون ٹک ٹاکر کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں گارڈن پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب فائرنگ سےخاتون سمیت 4 ٹک ٹاکرز ہلاک ہو گئے تھے، پولیس نے جمعرات کو ایک اور خاتون ٹک ٹاکر کو باقاعدہ گرفتار کر لیا ہےقومی موقرنامے کے مطابق پولیس کے مطابق گرفتارملزمہ سویرا پاک کالونی کے قریب کی رہائشی ہے، واردات سے قبل سویرا کی مسکان سے لڑائی بھی ہوئی تھی اور سویرا نے ہی فون کر کے ملزم رحمان کو بلایا تھا،پولیس کا

مزید کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا مرکزی ملزم رحمان تاحال فرار ہے۔دوسری جانب ٹک ٹاکر مسکان شیخ سمیت تین ساتھیوں کے قتل کی وجہ سامنے آگئی ۔ نجی ٹی وی رپورٹ میں پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹک ٹاکر مسکان اور سویرا کے مابین جھگڑا چل رہا تھا جو چار افراد کی موت کی وجہ بنا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسکان شیخ قاتل رحمان کی دوست تھی ، رحمان نے مسکان سے جھگڑے کے بعد سویرا نامی ٹک ٹاکر کیساتھ ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کی جسے دیکھ کر مسکان سویرا کے گھر پہنچ گئی اور دونوں کے مابین جھگڑا ہوا ۔ سویرا کی شکایت پر ملزم رحمان نے مسکان کو بلا کر ساتھیوں کیساتھ گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ قبل ازیں پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث شخص چند لمحے پہلے تک مقتولہ مسکان سے رابطے میں تھا، اور فائرنگ کے مقام پر حملہ آور مسکان اور ساتھیوں کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔گارڈن میں ٹک ٹاکرز کے قتل میںمبینہ ملوث ملزمان کی تلاش میں پولیس نے ناکام چھاپے مارے۔گارڈن کے انکل سریا اسپتال کے قریب فائرنگ سے خاتون سمیت چار افراد کے قتل کے واقعے پر پولیس تفتیش جاری ہے۔ مسکان کے سابق دوست اور مشتبہ ملزم عبدالرحمن کے تلاش میں پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ناکام چھاپے قائد آباد میں عبدالرحمن خان اور قیصر عرف تنولی کے لئے مارے گئے۔ پولیس تاحال مسکان کے دوست عبدالرحمن کو حراست میں نہیں لے سکی۔ مقتولہ مسکان کا اصل نام رقیہ ہے۔رقیہ عرف مسکان نے 20 جون کو قائد باد تھانے میں عبدالرحمن اور اس کے دوست قیصر عرف بنگالی کے خلاف زیادتی کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہعبدالرحمن نے زبردستی دوستی کرنے سے انکار پر زیادتی کی کوشش کی اور پھر منع کرنے پر تشدد بھی کیا۔ قتل کے واقعے کا مقدمہ نبی بخش تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز گارڈن میں قتل کئے گئے ٹک ٹاکرز صدام اور ریحان کا کرائم ریکارڈ منظر عام پر آیا ہے جبکہ مسکان نامی خاتون کا منشیات فروشوں سے مبینہ رابطوں کی بھی تحقیقات جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز کراچی کے علاقے گارڈن میں قتل ہونے والے ٹک ٹاکرز کے کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے،مقتولین میں سے تین خود بھی جرائم پیشہ نکلے جبکہ مقتولہ مسکان کا تعلق بھی مبینہ طور پر منشیات فروشوں سے نکلا ہے۔پولیس کے مطابق مسکان کے منشیات فروشوں سے مبینہ رابطوں کی بھی تحقیقات جاری ہیں، مقتولہ کی قائد آباد کے بدنام زمانہ منشیات فروش عبدالرحمان سے دوستی تھی، پولیس نے منشیات فروشوں کی تصاویرحاصل کرلیں ہیں، قتل کے واقعے کے بعد سے عبدالرحمان اور آصف روپوش ہوگئے ہیں،دونوں ملزمان پولیس کو کئی مقدمات میں پہلے ہی مطلوب تھے۔ادھر قتل ہونیوالے صداماور ریحان کی چندرو زقبل بنائی گئی ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے، جس میں دونوں کو ٹک ٹاک ویڈیو بناتے اور ہوائی فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتاہے۔پولیس کے مطابق اس ہوائی فائرنگ کامقدمہ اتحاد ٹان تھانیمیں چندروز قبل ہی درج کیا گیا تھا، ٹک ٹاکر صدام اور ریحان اقدام قتل کے مقدمے میں بھی ملوث رہے ہیں،مقتولین نے ایک سال قبل ساتھیوں کے ہمراہ شہری کو فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا۔پولیس نے قتل کا مقدمہ صدام کے بھائی کی مدعیت میںدرج کرلیاہے۔واضح رہے گذشتہ روز پولیس حکام نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ٹک ٹاکر مسکان کی دوستی قتل کی وجہ ہوسکتی ہے، کیونکہ رحمان نامی نوجوان مسکان کو عامر سے دوستی رکھنے پر منع کرتا تھا اور اس بات کا اظہار کئی بار رحمان نے مسکان سے کیا تھا۔فائرنگ کے واقعے سے قبل تمام دوست ایک ساتھ کھانا کھانے کے لئے نکلے، راستے میں انہوں نے ٹک ٹاک بھی بنائی، بعد ازاں انکل سریا ہسپتال کے قریب ان کی گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنادیا گیا۔‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں