21

اچانک بارش کے باوجود بہتر انتظامات سے کہیں پانی جمع نہیں ہوا، مرتضیٰ وہاب

اچانک بارش کے باوجود بہتر انتظامات سے کہیں پانی جمع نہیں ہوا، مرتضیٰ وہاب

ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کل پورے شہر میں بارش ہوئی جو ماحول کیلئے سازگار اور اچھی چیز ہے اور بارش کے باوجود کہیں پانی جمع نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ سیاسی ایڈمنسٹریٹر نہیں ہوسکتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اچانک بارش کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ تیاری پہلے سے نہیں تھی مگر میں شہری انتظامیہ کے تمام اداروں کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل پر بارشوں کے باعث ہمیشہ دشواری کا سامنا رہتا تھا جس پر قابو پانے کیلئے شاہراہ فیصل کے پورے ایریا میں سندھ حکومت نے نئی ڈرینج لائن ڈالی تھی جس کی وجہ سے یہاں پانی جمع نہیں ہوا اور نرسری سے لے کر ناتھا خان پل تک کہیں بارش کا پانی جمع نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی رہائش گاہ وزیرمینشن، آئی آئی چندریگر روڈ، ایم اے جناح روڈ پر بھی صورتحال بہتر تھی کیونکہ وزیر مینشن کی طرف نئی ڈرینیج لائن ڈالی گئی تھی اور شاہراہ پاکستان، ناظم آباد، ماڑی پور روڈ بھی کلیئر تھے۔

کے ڈی اے چورنگی پر پانی تھوڑا جمع ہوا تھا مگر کے ڈی اے چورنگی سے پانی کی نکاسی دو گھنٹے میں کردی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے ڈی اے اور ناگن چورنگی ماضی میں بارش کے حوالہ سے مسائل کا شکار تھی مگر اب کے ڈی ے چورنگی پر تین نئے آؤٹ لیٹ قائم کئے گئے اور اس کے پانی کا اخراج گجر نالے کی طرف کیا گیا۔ اس پر ایس آئی ڈی سی ایل کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک جگہ پر پانی جمع ہوا تھا کیونکہ وہاں نکاسی کا نظام نہیں تھا اور سرجانی ٹاؤن میں تھوڑی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں ڈسٹرکٹ ویسٹ اور سینٹرل کا پانی بھی آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز ہے کہ گرین لائن کے اطراف میں نکاسی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے جس طرح ایس آئی ڈی سی ایل میں مدد کی اس طرح ناگن چورنگی پر بھی مدد کریں۔ 

انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں ماضی میں لوگوں نے نا انصافی کی ہے۔ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد بھی کل سڑکوں پر متحرک تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ آج رات بارہ بجے واپس آرہے ہیں۔ کیا سندھ کے اپوزیشن لیڈر کا کام سازشیں کرنا ہے؟

کیا اپوزیشن لیڈر کا کام اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کرنا ہے؟ کیا وہ اسلام آباد اپنی سی وی لے کر گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ سیاسی ایڈمنسٹریٹر نہیں ہوسکتا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں مشاہد اللّٰہ خان مرحوم اور فہیم الزمان کراچی کے ایڈمنسٹریٹر رہے ہیں۔ پنجاب میں بلدیاتی نظام کس نے ختم کیا؟ پی ٹی آئی نے تو خود اپنے صوبے میں بلدیاتی حکومتوں کو مدت پوری کرنے نہیں دی۔ اسلام آباد کے میئر کے ساتھ پی ٹی آئی نے کیا کیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں