ساہیوال میں پولیس اہلکاروں نے خواتین اور بزرگ شہری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

ساہیوال (میڈیا ڈسک) ساہیوال میں پولیس گردی کا ہولناک واقعہ، پولیس اہلکاروں نے خواتین اور بزرگ شہری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی- تفصیلات کےمطابق پنجاب کے شہر ساہیوال میں پولیس اہلکار نے خواتین اور بزرگوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ لڑائی ختم کروانے کے لیے بلوائے گئے پولیس اہلکار نے خواتین اور بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق ساہیوال کے نواحی علاقے 64 والی پلی کے قریب سرسبز درختوں کی کٹائی پر 2 فریقین کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ علاقہ مکینوں کی فون کال کے بعد تھانہ نور شاہ کی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لڑائی ختم کروانے کی بجائے فریقین کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ نور شاہ کا کانسٹیبل عامر شہزاد نے سرکاری پستول، لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔

پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تشدد کرنے والے کانسٹیبل کے خلاف رپورٹ بیج دی گئی ہے، کانسٹیبل کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل فیصل آباد میں بھی ایسا ہی واقع پیش آیا تھا- جس کے بعد پولیس گردی کے واقعہ پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ میڈیا کو دئے گئے بیان میں سی پی او فیصل آباد سہیل احمد نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
پٹرولنگ پولیس اہلکاروں نے غیر ضروری طور پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کر کے پولیس اہلکاروں کی جانب سے نہتے شہری کو قتل کیا گیا۔ واقعہ کے فوراً بعد ملوث اہلکاروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ سی پی او کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے ، وقاص کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف ہو گا۔ دوسری جانب آئی جی پنجاب کو بھجوائی جانے والی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ابتدائی محکمانہ تحقیقات میں پٹرولنگ پولیس اہلکاروں کی غفلت پائی گئی، اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوزکیا، قواعد نظرانداز کیے، غیرمسلح افراد پرفائرنگ کا کوئی جوازنہیں پایا گیا۔
یاد رہے کہ فیصل ا?باد کے علاقہ ڈجکوٹ تھانے کی حدود میں پیٹرولنگ پر نکلنے والی موبائل نے ناکے پر نہ رکنے والی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے۔میڈیا رپورٹ میں پولیس کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق وقاص کی کار کا ٹائر اے ایس آئی شاہد رسول کے پاو¿ں پر چڑھ گیا تھا۔ اہلکاروں نے مشتعل ہو کر بندوقیں تان لیں۔
وقاص نے خوفزدہ ہو کر کار دوڑا دی تھی۔پولیس حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ پٹرولنگ پولیس نے کار سواروں کو رکنے کا اشارہ دیا تو انہوں نے گاڑی بھگا دی تھی، جس کے بعد ا±س کا تعاقب کیا گیا، گاڑی میں موجود تمام افراد نے شراب پی ہوئی تھی، فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان وقاص کا تعلق سمندری کےنواحی علاقہ سے تھا اور وہ بھی نشے میں دھت تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں