36

نادرا ملازمین کی جانب سے پیسے لے کر دہشتگردوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے جانے کا انکشاف

کراچی (میڈیا رپورٹ) نادرا کا 60 فیصد عملہ کرپٹ نکلا، نادرا ملازمین کی جانب سے پیسے لے کر دہشتگردوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے جانے کا انکشاف، جعلی شناختی کارڈ بنانے میں ملوث سرکاری افسران کا گروہ بے نقاب ہو گیا- تفصیلات کے مطابق سندھ میں نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا 60 فیصد عملہ کرپٹ نکلا، پیسے لے کر دہشت گردوں اور مختلف ممالک کے ایجنٹوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کر دیے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) نے حساس اداروں کے ساتھ مل کر نادرا میں بڑے پیمانے پر جعلی شناختی کارڈ بنانے میں ملوث سرکاری افسران کے گروہ کو بے نقاب کر دیا۔ اس حوالے سے جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا ان میں نادرا کے ڈپٹی ڈائریکٹر افروز ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر اشفاق اور ایجنٹ شامل ہیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ عامر فاروقی کا کہنا ہےکہ اس کام کی وجہ سے ملک کو سیکیورٹی چیلنج درپیش آئے اور نقصان بھی ہوا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق نادرا کے افسران بھاری رقم لے کر افغان کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں، ملک کے خلاف کام کرنے والی کالعدم قوم پرست جماعتوں کے کارندوں اور مختلف ممالک کے ایجنٹوں کو بھی جعلی دستاویزات پر قومی شناختی کارڈ جاری کرچکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہےکہ نادرا کے افسران نے افغانی ، بھارتی ، برمی اور بنگالی شہریوں کے بھی جعلی شناختی کارڈ بنا ڈالے ،اس کے علاوہ نادرا کے افسران اہم سرکاری ڈیٹا کے ہیر پھیر میں بھی ملوث ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق سندھ میں 60 فیصد نادرا کا عملہ کرپٹ ہے ، جن کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایف آئی اے سندھ زون وَن کے ڈائریکٹر عامر فاروقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ نادرا سے ناصرف ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے لیے شناختی کارڈز بنوائے گئے بلکہ القاعدہ کے دہشت گردوں کو بھی کارڈز بنوا کر دیے گئے، ایک بھارتی شہری عمران علی کا شناختی کارڈ بھی بنایا گیا جو کہ شہر قائد میں صفورا حملے میں ملوث نکلا اس کے علاوہ چینی قونصل خانے پر حملے میں بھی شناخت تبدیل کی گئی جب کہ نادرا سے اللہ نذر اور قوم پرست دہشت گردوں نے بھی شناختی کارڈ بنوائے۔
انہوں نے بتایا کہ نادرا کے ڈیٹا بیس میں افغان ایجنسی این ڈی ایس نے تحریک طالبان پاکستان کو شناختی کارڈز دلوائے، اس کے علاوہ بھی نادرا سے متعدد دہشت گردوں کے شناختی کارڈز بنوائے گئے ، اس سلسلے میں نادرا سندھ کے کئی ملازم ملوث پائے گئے۔ دوسری طرف وزارت داخلہ نے جعلی شناختی کارڈز کے اجرائ پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن کرتے ہوئے غیرملکیوں کو شناختی کارڈز کے اجرائ پر نادرا کے انٹیلی جنس افسر سمیت متعدد سینئر افسران معطل کر دیے، وزارت داخلہ نادرا میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف متحرک ہو گئی ہے اور بڑے پیمانے پر کریک داون کیا جا رہا ہے، اسی کریک داون کی زد میں آکر نادرا کے انٹیلی جنس افسر سمیت متعدد سینئر افسران کو معطل کر دیا گیا ہے- بتایا گیا ہے کہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے کراچی میں غیرملکیوں کو شناختی کارڈز جاری کرنے پر اپنے انٹیلی جنس افسر سمیت 6 افسران کو معطل کردیا، معطل ہونے والوں میں ڈپٹی ڈائریکٹر ماہین نبیل گبول، ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عائشہ عمران صدیقی، انٹیلی جنس افسرمنظور حسین، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ظہوراحمد، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ فیصل رانا اور عرفان علی شامل ہیں ، نادرا افسران کو غفلت برتنے پر انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں معطل کیا گیا، معطل نادرا اہلکاروں کے بارے میں وزارت داخلہ کو بھی آگاہ کردیا گیا جب کہ وزارت داخلہ نے جعلی شناختی کارڈز کے اجرائ پر بڑے پیمانے پر تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں