حکومت کا سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلانے والوں کیخلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(حالت میڈیا رپورٹ) حکومت نے سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلانے والوں کیخلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، یورپ اور مغربی ممالک میں کچھ سوشل میڈیا کارکن جعلی خبریں پھیلا کرحکومت پاکستان اور ریاستی اداروں کو بدنام کررہے ہیں، ان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے سیاسی، سفارتی اور قانونی وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ یورپی اور مغربی ممالک میں بیٹھے کچھ سوشل میڈیا کارکن اور ناپسندیدہ عناصر جعلی خبریں پھیلارہے ہیں۔ جعلی خبریں پھیلا کر حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ جعلی خبریں پھیلانے والے بعض مخالفین یا سوشل میڈیا کارکنان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام تر وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
کچھ لوگ ملک دشمن خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے مالی اعانت لے کر کام کر رہے ہیں، حکومت پاکستان نے جعلی خبریں پھیلانے والوں کیخلاف سخت نوٹس لیا ہے۔ بھارت میں انتہائ پسند مودی سرکار کا جھوٹ پھیلانے کا ایک اور نیٹ ورک پکڑا گیا تھا، جعلی خبروں سے عالمی رائے عامہ کو بھارت کے حق میں کیا جاتا تھا، 5 سے زائد بھارتی سفارتکار بھی ان خبروں کو شیئر کرتے رہے، امریکی کمپنی ڈی آرایف لیب نے جعلی خبروں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
اسی طرح 10 دسمبر 2020ئ کی ایک رپورٹ کے تحت یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ای یو ڈس انفو لیب کے مطابق ایک مردہ پروفیسر، کئی غیر فعال تنظیمیں اور 750 جعلی میڈیا آگنائزیشنز کو ایک 15 سال سے جاری وسیع عالمی ڈس انفارمیشن منصوبے اور انڈین مفادات کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوبارہ فعال بنایا گیا ہے. انڈین کرونیکلز کے نام سے جاری ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق اس منصوبے کے تحت جس شخص کی شناخت کو چرا کر دوبارہ زندہ دکھایا گیا ہے اسے درحقیقت انسانی حقوق کے قوانین کے بانیوں میں سے شمار کیا جاتا ہے اور ان کی 2006 میں 92 سال کی عمر میں وفات ہو گئی تھی. برطانوی نشریاتی ادارے کی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ای یو ڈس انفو لیب کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ایلیگزانڈر الافیلیپ نے بتایا کہ انہوں نے ڈس انفارمیشن پھیلانے کی غرض سے مختلف سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کسی نیٹ ورک میں اتنی ہم آہنگی نہیں دیکھی. ایلیگزانڈر الافیلیپ کہتے ہیں کہ ہم نے اس نوعیت کا اتنا بڑا نیٹ ورک اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا

اپنا تبصرہ بھیجیں