غیرملکی ادارے کو انٹرویو دینے کے بعد وزیراعظم کا اظہار برہمی

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں امریکہ کو ہوائی اڈے دینے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ”ہرگز نہیں”، جس پر سوشل میڈیا پر کافی بحث بھی چھڑی جبکہ پاکستانی عوام نے امریکہ جیسی س±پر پاور کے آگے دو ٹوک مو¿قف پیش کرنے پر وزیراعظم عمران خان کو خوب سراہا۔ اس انٹرویو کے حوالے سے وی لاگر عیسٰی نقوی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اس انٹرویو کے بعد اظہار برہمی بھی کیا ، یہی نہیں غیر ملکی ادارے اور وزیراعظم ہاو¿س کے مابین اعتماد کا فقدان بھی تھا جس کے پیش نظر اضافی کیمرے منگوا کر اس انٹرویو کو سائیڈ بائی سائیڈ ریکارڈ بھی کیا گیا۔
عیسٰی نقوی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاو¿س کا ماننا ہے کہ اس انٹرویو میں غیر ملکی ادارے کی جانب سے صحافتی اقدار کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس انٹرویو کے حوالے سے تمام معاملات ڈیل کرنے والے وزیراعظم کے قریبی شہباز گل تھے۔ ایچ بی او نے اس انٹرویو کے لیے پی ایم ہاو¿س کو اپروچ کیا جس کے بعد انہیں کہا گیا کہ ہمارے وزارت اطلاعات میں جو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) ہے، ا±س میں ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ ہے ، یہ درخواست ا±س کو دیں جس میں انٹرویو کی نوعیت اور ایس او پیز طے کریں جس کے بعد آپ کو اجازت دی جائے گی۔

ای پی ونگ سے منظوری کے بعد یہ فائل وزارت خارجہ اور وزارت اطلاعات کو بھیج کر رائے طلب کی گئی۔ ا±ن کی جانب سے کلئیرنس کے بعد ہی یہ معاملہ فکس ہوا۔ سب سے پہلے اس انٹرویو میں جو غلطی ہوئی وہ یہ تھی کہ انٹرویو سے قبل ایس او پیز طے نہیں کیے گئے تھے۔ یعنی یہ انٹرویو کس نوعیت کا ہو گا، اس کا دورانیہ کیا ہو گا اور یہ کب آن ائیر ہو گا۔ عیسٰی نقوی نے کہا کہ اس انٹرویو کی ریکارڈنگ 82 منٹ تک کی گئی جس پر وزیراعظم عمران خان نے اظہار برہمی کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایچ بی او پر اتنا اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے کہ 82 منٹ کی ریکارڈنگ کی جائے اور اس کے بعد وہ جو چاہیں اپنی مرضی سے ایڈٹ کر کے چلا دیں۔ جس کے بعد اضافی کیمرے منگوائے گئے اور اس ریکارڈنگ کو سائیڈ بائی سائیڈ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس 82 منٹ کے ریکارڈ انٹرویو میں سے 13 منٹ کا ایڈٹ شدہ انٹرویو چلانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ جو لوگ اور محکمے اس انٹرویو کے حوالے سے ڈیل کر رہے تھے ا±ن پر بھی وزیراعظم نے اظہار برہمی کیا کیونکہ کچھ معاملات جن پر وزیراعظم نے تفصیل سے بات کی تھی ا±نہیں شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عیسٰی نقوی نے مزید کیا بتایا آپ بھی دیکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں