لاہور کے مدرسے میں طالبعلم سے زیادتی کے بعد نارووال میں شرمناک واقعہ

نارووال (میڈیا رپورٹ) نارووال میں اسکول کی طالبات کو بلیک میل کرنے والے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے مدرسے میں طالب علم کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آنے کے بعد نارووال میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ نارووال کی تحصیل ظفر وال کے ایک نجی سکول کے مالک کا بیٹا اور اس کا دوست سکول آنے والی طالبات اور خواتین ٹیچرز کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنتے تھے،ملزمان خواتین کی ویڈیوز بھی بناتے تھے اور انہیں بلیک میل کر کے لاکھوں روپے بٹورتے رہے۔
رقم نہ ملنے پر طالبات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی دی جاتی تھیں۔ دونوں افراد طالبات کو میٹرک میں نمبر لگوانے کا جھسانہ دے کر دھوکے سے بلاتے تھے اور زیادتی کا نشانہ بنا کر اس سے رقم بٹورتے تھے۔
مقامی افراد نے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

جبکہ اہل علاقہ نے الزام عائد کیا کہ سکول کا مالک اور اس کا بیٹا بااثر ہیں جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ اور افسران خاموش ہیں۔دوسری جانب طالبعلم سے زیادتی کے الزام میں گرفتار مفتی عزیز الرحمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈپرپولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس کی جانب سے مدرسے کے طالبعلم سے زیادتی کے ملزم مفتی عزیز الرحمان اور ان کے تین بیٹوں کو لاہور کی عدالت میں پیش کیا گیا۔پولیس کی جانب سے کیس کی تفتیش کے لیے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔عدالت نے مفتی عزیز الرحمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کا ڈی این اے اور میڈیکل کروانے کی ہدایت بھی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں