قومی اسمبلی ہنگامہ، ملوث ارکان کا ایوان میں داخلہ بند ہوگا

قومی اسمبلی ہنگامہ، ملوث ارکان کا ایوان میں داخلہ بند ہوگا

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز پیش آئے واقعات کا جائزہ لینے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس طلب کر لیا جس میں سی سی ٹی وی اور دستیاب ویڈیو کا جائزہ لیا جائے گا ، تحقیقات کی روشنی میں ارکان کے ایوان میں داخلے پر پابندی لگائی جائے گی۔

گزشتہ روز ایوان میں پیش آئے واقعے پر وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ارکان کے حملے میں ملیکہ بخاری کی بائیں آنکھ کا قرنیہ متاثر ہوا ہے، یہ کیسے لوگ ہیں جو پوری قیادت سمیت ایسے حملوں اور رویوں کو پروان چڑھا رہے ہیں، خواتین کی عزت اور تقدس کا بھی انہیں خیال نہیں ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کاکہنا ہے کہ گزشتہ روز پارلیمان میں جو ہوا بہت افسوسناک ہے، حکومت نے قائدحزبِ اختلاف اور اپوزیشن پر نہیں، پارلیمنٹ پر حملہ کیا، وزراء اجلاس میں گالی دینے، حملہ کرنے اور شہباز شریف کی تقریر روکنے آئے تھے۔

انہوں نے کہاکہ قائد حزبِ اختلاف کی تقریر روکنے کے لیے ان پربجٹ کی کتاب پھینکی گئی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں گزشتہ روز بھی وزراء اور حکومتی ارکان نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دور ان شدید احتجاج ، شور شرابہ اورہنگامہ کیا جس کے باعث ایوان میدان جنگ بن گیا ، نوبت ہاتھا پائی تک جاپہنچی ، سارجنٹ ایٹ آرمز بھی صورتحال پر قابوپانے میں ناکام رہے۔

حکومتی رکن علی نواز اعوان نے بجٹ دستاویز لیگی رہنما روحیل اصغر کو دے ماری ، دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ، ہنگامہ آرائی کے دوران تحریک انصاف کی رکن اسمبلی ملیکہ بخاری چہرے پر کتاب لگنے سے زخمی ہوگئیں۔

اپوزیشن اراکین نے شہباز شریف کے گرد حفاظتی حصار بنا لیا ، حکومت اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف جملے بازی کی، نعرے لگائے اور گالم گلوچ بھی کی ، دوسری طرف حکومتی وزارء و اراکین ڈیسک و سیٹیاں بجاتے رہے، حکومتی اراکین نے اسپیکر قومی اسمبلی کی ایک نہ سنی ۔

ادھرڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ڈھائی برسوں میں جو بویاہے آج یہ اس کا ردعمل دیکھ رہے ہیں ، وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ قومی اسمبلی میں لڑائی علی گوہر بلوچ کے نعروں سے شروع ہوئی ، بجٹ پر تنقید میں حرج نہیں ، اپوزیشن تنقید کی آڑ میں توہین کرے گی تو وہ قابل قبول نہیں، اپوزیشن کو بات کرنی ہے تو اسے حکومت کی بات سننی ہوگی۔

اپوزیشن کو جیسے کو تیسا کا جواب ملے گا جبکہ مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کاکہنا تھا کہ عمران خان کے حکم پر شہباز شریف کوبات کرنے نہیں دی گئی، عمران خان کا شہباز شریف کو بات نہ کرنے دینا ’’عوام کی جیب خالی،بجٹ جعلی‘‘ پکڑے جانے کا خوف ہے ۔

شہباز شریف کی تقریر روک کر عمران خان ،شہباز شریف سے اپنی جھوٹی تقریر کرنے کا این آر او لینا چاہتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں