پاکستانی خاندان کو ٹرک سے کچلنے والے دہشتگرد کی تصاویر اور تفصیلات سامنے ا? گئیں

اسلام آباد (جنرل رپورٹر) لاہور سے تعلق رکھنے والے خاندان کو ٹرک سے روندنے والا دہشتگرد مذہبی تعصب میں مبتلا تھا، 20 سالہ ملزم چھ ماہ قبل اونٹاریو کے شہر لندن منتقل ہوا تھا \، پاکستانی خاندان کو ٹرک سے کچلنے والے دہشتگرد کی تصاویر اور تفصیلات سامنے آگئیں- برطانوی میڈیا نے کینیڈا میں پاکستانی خاندان کو ٹرک سے کچلنے والے دہشتگرد 20 سالہ ملزم کی تصاویر اور تفصیلات جاری کردیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 20 سالہ Nathaniel Veltman اونٹاریو میں ایک فارم کا ملازم تھا اور چھ ماہ قبل اونٹاریو کے شہر لندن منتقل ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق اس نے کافی عرصہ قبل اپنا سوشل میڈیا اکاو?نٹ بند کردیا تھا اور کچھ ماہ قبل ہی دوبارہ اکاو?نٹ بنایاتھا۔ملزم نتھینیل پرقتل کے چار اوراقدام قتل کا ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کینیڈا میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے پاکستانی خاندان سے متعلق بھی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں،جس کے مطابق یہ خاندان پشاور صدر روڈ کا رہائشی تھا۔انتہا پسند نوجوان کی دہشتگردی کا شکار ہونے والے خاندان میں ریٹائرڈ میجر ڈاکٹر اطہر پشاور والے کی 44 بیٹی مدیحہ سلیمان، 46 سالہ داماد سلمان افضال ، 15 سالہ نواسی یمنیٰ اور نواسہ 9 سالہ فیض شامل ہے۔ڈاکٹر اطہر قیام پاکستان سے قبل پشاور ا?کر آباد ہوئے تھے جس کے بعد انگلینڈ اور بعدازاں کینیڈا منتقل ہو گئے تھے۔انتہا پسند ڈرائیور نے فٹ پاتھ پر انتظارمیں کھڑے خاندان پر بے دردی سے ٹرک چڑھا دیا تھا۔ریٹائرڈ میجر ڈاکٹر اطہر پشاور والے کی صاحبزادی مدیحہ سلیمان کی شادی گلبرگ لاہور کے رہائشی سلمان سے ہوئی تھی جس کے بعد وہ اپنی والدہ اور بیوی کے ہمراہ کینیڈ منتقل ہو گئے تھے۔ریٹائرڈ میجر ڈاکٹراطہر کے صدر روڈ پر واقع فلک سیر سینما کے سامنے بننے والی پہلی تاریخی حویلی کے مالک ہیں۔ان کا خاندان شہرت رکھنے کے ساتھ سماجی حلقوں میں کافی جانا پہنچانا جاتا ہے۔
مذکورہ خاندان کے زیادہ تر افراد اس وقت کراچی میں رہائش ہذیر ہیں۔ریٹائرڈ میجر ڈاکٹر اطہر کے کزن اور صحافی وزیر قادری نے واقعے پر گہرے دکھ اظہار کیا۔انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ 9 سالہ فیض کی حفاظت کے حوالے سے خاندان کے افراد فکر مند ہیں،انہوں نے ملوث شخص کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ہاﺅس آف کامنز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل کوئی حادثہ نہیں تھا، یہ ایک دہشت گرد حملہ تھا، جو ہماری برادریوں میں سے ایک کے دل میں نفرت کا نتیجہ تھا۔
حملے کے فورا بعد ہی گرفتار کیے گئے 20 سالہ ملزم پر پہلے درجے کے قتل اور قتل کی کوشش کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ مسلم برادری کے متعدد رہنماو?ں نے عدالتوں سے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اتوار کی شام کینیڈا کے وسطی صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں پیش آنے والا واقعہ ‘نفرت’ کا نتیجہ تھا۔ کینیڈا کے وزیر پبلک سیفٹی بل بلیئر نے اس حملے کو اسلامو فوبیا کا خوفناک اقدام قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ اس خاندان کو اس کے عقیدے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور یہ حملہ بظاہر حملہ ا?ور کی مسلمانوں سے نفرت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں