جعلی اکاو¿نٹس کیس: آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی و دیگر سے 23 ارب 85 کروڑ روپے کی وصولی ہوگئی

راولپنڈی ( اسٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور حسین لوائی سمیت دیگر کے خلاف ریفرنسز میں 23 ارب 85 کروڑ روپے کی وصولی کرلی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نیب نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں 23 ارب 85 کروڑ روپے وصول کر لئے، یہ رقم آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور حسین لوائی سمیت دیگر کے خلاف ریفرنسز میں ریکور کی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں نیب راولپنڈی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں ڈی جی نیب راولپنڈی نے کارکردگی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیب راولپنڈی نے احتساب عدالتوں میں جعلی اکاو?نٹس کیسز کی تحقیقات کے بعد 14 ریفرنس دائر کیے ، اس دوران جعلی بنک اکاو¿نٹس کیس میں 23 ارب روپے سے زائد وصول کیے گئے ہیں۔
چیئرمن نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کے خلاف ایک منظم پرپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، نیب پر بلاجواز تنقید نہ کی جائے، بلاوجہ وہی تنقید کرتے ہیں جن کو نیب قانون کا علم ہی نہیں ہے، جب کہ ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ مثبت تنقید کا خیرمقدم کریں گے۔ دوسری طرف راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں اربوں روپے کی بدعنوانی پر چیئرمین نیب جسٹس ریتائرڈ جاوید اقبال نے نوٹس لے لیا ، چیئرمین نیب کی طرف سے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے لیے مبینہ طور پر غیرقانونی لینڈ ایکوزیشن کے معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا، اس ضمن میں چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں منصوبے میں بدعنوانی کے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لیں اور کرپشن کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
علاوہ ازیں قومی احتساب بیورو(نیب) نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف انکوائری بند کرنے کی منظوری دے دی، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف انکوائری عدم ثبوت پر بند کرنے کی منظوری دی گئی، نیب ایگزیکٹو بورڈ نے 3 ریفرنسز دائر کرنے اور9 انکوائریز کی بھی منظوری دی، قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا، اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکوٹر جنرل اکاو¿نٹبلیٹی نیب، ڈی جی ا?پریشنز نیب اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلا س میں 3 ریفرنسز کی منظوری دی گئی ، قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں احسان اللہ محسود سابق سینئر رکن بور ڈ ا?ف ریونیو خیبر پختونخوا ہ کے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ، ملزم پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طورپر ڈیرہ اسمٰعیل خان میں 1976 کنال سرکاری زمین الاٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کوبھاری نقصان پہنچا۔
اس کے علاوہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں مقبول احمد لہڑی سابق ضلعی ناظم، ڈاکٹر کلیم اللہ، سابق مئیر میٹر و پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور دیگرکے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ، ملزمان پر اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئی2 529 مربع فٹ سرکاری زمین کوڑیوں کے داموں لیز پر دینے کا الزام ہے ، جس سے قومی خزانہ کو 529 ملین روپے کا نقصان پہنچا ، جب کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں میر محمد امین عمرانی سابق وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حکومت بلوچستان اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ، ملزم پر اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طورپر ا?مدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں