35

بلاول نے این اے 249 پر ن لیگ کے الزامات مسترد کردیے

جنگ نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے حلقہ این اے 249 میں ن لیگ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔ 

کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابی نے ثابت کردیا عوام حکومت کے ساتھ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے سلیکٹڈ حکومت کو ریجیکٹ کردیا، پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام نے پھر سے پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دی ہے، میں کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کئی دفعہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے، ہم سے یہ کامیابی چھینی گئی تھی۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم جانتے تھے اس علاقے میں بھٹو اور بی بی کے چاہنے والے بستے ہیں۔

انھوں نے مسلم لیگ (ن) کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ڈسکہ کی طرح نہ دھند تھی نہ پولنگ افسر غائب ہوئے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ڈسکہ-2 کا شور مچانے والے بتائیں ڈسکہ کی طرح فائرنگ کہاں ہوئی؟

انھوں نے یہ بھی کہا کہ شاہد خاقان عباسی آر او آفس میں موجود تھے اور اپنی ہار دیکھ رہے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ان کا شوق ہے اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا، ان کا شوق ہے پیپلز پارٹی سے مقابلہ کرنا، تو کرو اور ہارو۔

 چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ، پہلے سلیکٹڈ اور دوسرے سلیکٹڈ سب سے لڑنے کو تیار ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم میں ایسے دوست ہیں جو عمران خان کو نہیں ہٹانا چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس الیکشن میں ن لیگ کامیاب ہوتی توخود شہباز شریف کو فون کرکے مبارکباد دیتا۔

بشیر میمن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم بشیر میمن کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ بشیر میمن بتائیں کہ کس کے کہنے پر اصغر خان کیس کا پیچھا چھوڑا اور میرا پیچھا کرنا شروع کیا۔

جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی گئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ قانون کا وزیر عہدے پر موجود رہے، پوری کابینہ نے اس غلط کام کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھیجی۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر شکایات آئی تھیں کہ ملیر میں لوگ احتجاج کر رہے تھے، ملیر میں کچھ ناانصافی کی شکایات آرہی تھی، میں نے نوٹس لیا ہے اور وزیراعلیٰ سے رپورٹ مانگی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں